Parwez-Ibrahim-38-to-End

 بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

درسِ قرآنِ حکیم ازمفکر قرآن علامہ غلام احمد پرویزؒ

پانچواں باب: سورۃ ابراھیم (14) آیات(38 تا اختتام)

عزیزانِ من! آج دسمبر 1974ء کی 8 تاریخ ہے’ اور درسِ قرآنِ کریم کا آغاز سورۃ ابراھیم کی آیت 38  سے ہو رہا ہے:(14:38)  ۔

سلسلۂ کلام یوں چلا آ رہا ہے’ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیمؑ کے ذمے ایک عظیم پروگرام لگایا ۔ کہا یہ کہ انسانوں کی مفاد پرستیوں نے خود انسانوں کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے’ اور نتیجہ اس کا یہ ہے’ کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے ۔ میری اور تیری کی تقسیم نے یہ تفریق پیدا کی ہے ۔ انہوں نے زمینیں بانٹ لیں’ انہوں نے گھر بانٹ لیے ۔ اب میری اس زمین پر’ میں دیکھتا ہوں کہ میرا ہی کوئی گھر نہیں ہے’ تو تم میرے لیے ایک گھر بنا دو ‘  بَيْتِيَ (22:26) ‘الْبَيْتِ (22:26) ۔ انہوںؑ نے عرض کیا کہ بارِ الٰہا آپ تو ارض و سما کے مالک ‘  ساری کائنات آپ کی ملکیت ‘  یہ آپ نے کیا فرما دیا’ کہ میرے لیے ایک گھر بنا دو ۔ کہا ابراہیمؑ !  یہ گھر تو’ یہ زمینیں ‘  یہ علاقے ‘  یہ مملکتیں ‘  یہ ملک ‘  مختلف انسانوں نے اپنے اپنے نام الاٹ کرا لیے’ ان سے منسوب ہیں ۔ جب میں نے کہا ہے’ کہ میرا گھر’ تو اس کے معنی ہیں وہ  وُضِعَ لِلنَّاسِ (3:96) جو پوری نوعِ انسانی کا گھر کہلا سکے ۔ آپ دیکھیے گا کعبہ کے متعلق سارے قرآن میں جہاں کہیں کعبے کا لفظ آیا ہے’ ہر جگہ اسے لِلنَّاسِ کہا گیا ہے  مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا (2:125) یعنی یہ جو تفریق کردی گئی تھی’ انسانوں اور انسانوں میں ‘  وہی شجرہ جس سے کہ منع کیا گیا تھا’ آدم کو کہ مشاجرت اختیار نہ کرلینا’ جڑ تم سب کی ایک ہے’ اپنے آپ کو یوں ٹہنیوں اور شاخوں میں نہ بانٹ لینا ۔ مخاصمت شروع ہوجائے گی’ اور  بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (2:36) پھر کیفیت یہ ہوگی’ کہ Wedges تمہارے درمیان آجائیں گی’ جو تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے نہیں دیں گی ۔ تو یہ جو آسمانی ہدایت آتی تھی’ وہ پھر سے  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً (2:213) مقصد یہ تھا’ کہ نوعِ انسانی کو پھر سے ایک عالمگیر برادری میں منسلک کردیا جائے ۔ تفریق اور تقسیم ہوئی تھی ‘  ملک ‘  خون ‘  نسل ‘  رنگ ‘  زبان ‘  ان چیزوں کے اختلاف اور باہمی اشتراک کی بنا پر’ یعنی کچھ لوگوں کا وطن ایک ہوا’ تو یہ ایک گروہ بن گیا’ اور دوسرے لوگوں کا وطن دوسرا ہوا’ تو وہ دوسرا گروہ’ دوسری قوم تصور کرلیا گیا ۔ تو گویا یہ جو تھا ایک وطن ہوا’ اسے میں نے اشتراک کہا ہے’ اور یہ کہ دوسروں کا دوسرا وطن تھا’ اسے اختلاف کہا ہے ۔ اشتراک اور اختلاف کے یہ معیار تھے’ جس نے انسانوں کو اس طرح سے ٹکڑوں میں بانٹ دیا کہ  بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (2:36) ایک دوسرے کے پھر یہ دشمن ہوگئے ۔ تو یہ جو وجوہِ تفریق تھی یا اختلاف کی وجوہ تھی’ پیامِ آسمانی نے انہیں مٹا کر’ وہ جو وجۂ اشتراک تھی’ پہلے اس کو بدلا ہے ۔ اس نے کہا کہ وجۂ اشتراک ‘  آئیڈیالوجی ‘  نظریہ ‘  یقین ‘  عقیدہ ‘  ایمان کا اشتراک ہونا چاہیے ۔ جب یہ اشتراک ہوگا’ تو وہ وجوہِ اختلاف جو ہیں’ وہ سب کی سب مٹ جائیں گی ۔ کسی ملک کا رہنے والا ‘  کسی نسل سے پیوند ‘  کسی خون رنگ ‘  زبان کا انسان’ دنیا میں کہیں بھی ہو’ یہ دو انسان کہیں بھی ہوں’ اگر وہ اشتراک ہے ان کا آئیڈیالوجی کے اندر’ تو وہ وحدتِ انسانی کی تسبیح کے دانے بن گئے ۔ یہ تھا پیام جو ابراہیمؑ کو دیا گیا’ اور اس بنا پہ کہا گیا کہ  بَيْتِيَ’ یہ میرا گھر تم رہنے دو’ کسی کو اس گھر سے اپنی نسبت نہ کرنے دو’ تاکہ کوئی تو ایسا مقام ہو’ کہ جسے نوعِ انسانی یا عالمگیر انسانیت اپنا کہہ سکے ۔ عزیزانِ من!  آپ نے دیکھا بنیاد کہاں سے پڑتی ہے’ اور کس نظریہ کے تحت اساس قائم ہوتی ہے’ جسے آپ اسلام یا دینِ خداوندی کہتے ہیں ۔ نوعِ انسانی کو پھر سے عالمگیر برادری میں منسلک کر دینا ‘  تشکیل اس انداز سے کر دینا’ یہ تھا وہ مقصد جس کے لیے کہا کہ یہ گھر تم میرے لیے بناؤ ۔ گھر بنایا گیا’ اور اس کے بعد پھر آپ نے دیکھا’ کہ وہ باپ اور بیٹا’ اس گھر کی تعمیر میں مصروف تھے’ وہ جس طرح سے کہ وہ مزدور اپنی محنت کو کم کرنے کے لیے’ سر پہ اینٹیں ہوتی ہیں’ گارے کا تگارا ہوتا ہے’ اور کچھ گنگناتے رہتے ہیں ۔ اس طرح سے وہ محنت کی جو صعوبت ہوتی ہے’ وہ کم ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی یہ کچھ بنا رہے تھے’ اور لب پر یہ حسین دعائیں تھیں ‘  تمنائیں تھیں  رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ (14:35) اور رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37) تیرا گھر جو قابلِ احترام ہے ۔ تو میں نے پچھلی دفعہ جو عرض کیا تھا’ کہا تھا کہ یہ ساری دعائیں مانگنے کے بعد کہ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (14:37) یہ اس لیے ہم بنا رہے ہیں تاکہ الصَّلَاةَ کو قائم کیا جاسکے ۔ تو میں نے عرض کیا تھا’ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ صلوٰۃ تو کرۂ ارض کے کسی خطے کے کسی مقام پہ بھی دو سجدے دیے جاسکتے ہیں ۔ لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (14:37) یہ اس لیے بنایا جا رہا ہے’ تاکہ الصَّلَاةَ کا نظام قائم ہوسکے ۔ تو یہ دو سجدے دینے کی بات نہیں ہے’ بڑی اہم چیز ہے’ جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ۔ اور اس کے لیے  فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ (14:37)   پھر تو ایسا انتظام کردے کہ دنیا میں نوعِ انسان کہیں بھی بس رہی ہو’ وہ کشاں کشاں یہاں اس نقطے پہ آجائے ۔ یہ اقامتِ صلوٰۃ جو ہے’ اس کا پہلا نتیجہ اور ثمر یہ ہونا چاہیے ۔ وہی صلوٰۃ جو میں کہا کرتا ہوں’ کہ اکٹھے انسان جو ہیں’ جب نماز کی آواز آتی ہے’ تو وہ الگ الگ ہوجاتے ہیں ۔ اہلِ حدیث الگ ‘  سنی الگ ‘  شیعہ الگ ‘  دیو بندی الگ ‘  بریلوی الگ اور یہاں تو خیر اتنے ہی ہیں’ پھر شافعی الگ ‘  مالکی الگ ‘  حنبلی الگ ۔ الگ الگ یہ ہوجاتے ہیں ۔ اقامتِ صلوٰۃ کے متعلق انہوں نے کہا تھا’  مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ (14:37) تاکہ اس آواز پہ نوعِ انسانی کسی ایک مرکز پہ جمع ہوجائے ۔ اور اسے کہا یہ تھا’ کہ اب دوسری بات یہ میں کہہ رہا ہوں’ کہ یہاں تو کھانے پینے کو کچھ نہیں ہوتا ہے’ اس واسطے یہ ضروری چیز ہے’ کہ  وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ (14:37)  ان کے کھانے پینے کا انتظام بھی کچھ کردے ۔ کاہے کے لیے کردے؟  وہ کہنے لگے’ جب تک یہ نہ ہوگا  لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37) میں نے کہا ہے’ کہ قرآن جہاں ایک بات بطور اصول کے کہتا ہے’ اس کے بعد اسکی حکمت بتاتا ہے’ کہ ہم کیوں یہ کہہ رہے ہیں ۔ یہ روٹی کا انتظام کردے’ اس واسطے نہیں کہ پیٹ میں یہ روٹیاں پڑیں’ تو پھر فساد اور غرور اور تکبر کے مارے دوسرے کو جینے نہ دیا جائے ۔ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37) تاکہ ان کی محنتیں بھرپور نتائج پیدا کریں ۔ روٹی کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا ۔ پراگندہ روزی’ پراگندہ دل ۔ تعمیرِ کعبہ کے بعد پہلی چیز جو وہاں دعائے ابراہیمیؑ ہے’ وہ یہ دعا ہے ۔ یہ کچھ کہا اور اس کے بعد کہا کہ  رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّـهِ مِن شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ (14:38)  کہا کہ یہ جو کچھ ہم زبان سے ادا کر رہے ہیں’ تو تو ان الفاظ کو بھی سننے والا ہے’ جانتا ہے’ اور دلوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے’ کہ ہم جو یہ دعائیں مانگ رہے ہیں’ کہ لوگ بھی یہاں جمع ہوں’ روٹی کا بھی انتظام ہو’ تو یہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم مہاجن بننا چاہتے ہیں’ یہاں کے پجاری بننا چاہتے ہیں ۔ پجاری بھی تو اپنے لیے وہ اس لیے بناتا ہے سارا کچھ’ کہ وہ روٹی والی بات جو آگے آگئی’ تو کہا کہ اس روٹی کی التجا میں کہیں یہ بات نہ ہوجائے’ کہ جہاں اور مختلف ناموں سے پجاریوں نے خدا کے نام کے گھر بنا رکھے ہیں’ ہم بھی وہی کچھ کہہ رہے ہیں ۔ کہا کہ تو جانتا ہے’ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں’ اس سے ہمارا مقصد کیا ہے ‘  ہماری نیت کیا ہے تو تو جاننے والا ہے ۔ اور ہمارے ہی دل کیا’ اور انسانوں کے دل ہی کیا  وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّـهِ مِن شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ (14:38) اس کائنات میں کوئی شے بھی نہیں ہے’ جو تجھ سے مخفی ہو ۔ اس لیے یہ سوال ہی نہیں ہے’ کہ ہم دل میں کچھ اور رکھیں’ زبانوں پہ کچھ اور لے آئیں ۔ مقصد ہمارا تو جانتا ہے’ کہ یہ دعا جو ہے’ اس کا آخری فقرہ جو ہم نے کہا ہے’ تو یہ دنیا میں دولت سمیٹنے کاذریعہ نہیں ہم بنا رہے ۔ تو جانتا ہے’ کہ اس کا مقصد کیا ہے ۔ اور پھر آپ نے دیکھ لیا’ کہ وہی گھر خدا کا جو ہے وہ کیا سے کیا بن کے رہ گیا ہے ۔ گھر بنایا اور وہ دعا کی’ کہ یہ مرکز بن جائے انسانیت کا ۔ انسانیت کے وہ جو بکھرے ہوئے الگ الگ دل تھے’ وہ اس کی وجہ سے جڑ جائیں ۔ کہا کہ میں اس گھر کے اور اس مقصد سے جس کے لیے اسے تعمیر کیا گیا ہے’ اس کی طرف سے مایوس نہیں ہوں ۔ تو میں نے تو اپنی آنکھوں سے ایک طبعی بات ایسی دیکھ لی ہے’ کہ جس کے بعد سوال ہی نہیں’ کہ میری طرف مایوسیاں آجائیں ۔ میں نے تو دیکھا یہ ہے  الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ (14:39) میں نے تو دیکھا ہے’ کبر سنی کے زمانے میں جب عام حالات میں انسان اولاد کی طرف سے مایوس ہوجاتا ہے’ تو نے مجھے اسماعیل اور اسحاق جیسے بیٹے دیے ہیں’ تو اس صورت میں جب تو یہ اتنی سی طبعی بات کے اندر بھی مایوس نہیں ہونے دیتا’ اس میں بھی یہ چیزیں آجاتی ہیں’ تو یہ جو اتنا بڑا بلند مقصد ہے’ جس کے لیے میں نے اسماعیلؑ کی اولاد کو یہاں بسایا’ اسحاقؑ کی اولاد کو وہاں بسایا ہے’ تو میں اس کے مستقبل کی طرف سے مایوس نہیں’ ایسا ہو کے رہے گا ۔ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ (14:39) اور میں جانتا ہوں’ کہ جو مانگ ہوتی ہے’ تو اس کو سنتا ہے ۔ وہاں یہ کہا تھا’ کہ یہ میں گھر بنا رہا ہوں’ تاکہ اقامتِ صلوٰۃ ہوسکے ۔ پھر وہ دعا دہرائی گئی’ کہ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي (14:40) اے ہمارے نشوونما دینے والے!  ایسا کر کہ میں بھی اقامتِ صلوٰۃ کے اوپر پابند رہوں’ اور میری نسل بھی یہ کچھ کرتی رہے ۔ عزیزانِ من!  دیکھا یہ کتنا اہم فریضہ ہے’ یہ اقامتِ صلوٰۃ ۔ کعبہ کو بنایا اور کہا  لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (14:37) تاکہ اقامتِ صلوٰۃ ہوجائے ۔ دعا مانگی اور اس کے بعد پھر یہ ایک دعا اپنے لیے’ اور اپنی نسل کے لیے بھی ‘  اپنی ذریت کے لیے بھی ‘  اولاد کے لیے بھی مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي (14:40) میں بھی اور میری اولاد بھی’ دعا یہ ہے کہ وہ اقامتِ صلوٰۃ کے فریضے پہ پابند رہے ۔ دوسری جگہ ہے’ کہ حضرتِ ابراہیمؑ کے یہ کچھ کہنے کے بعد’ جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہاں یہ ہوگا’ تو وہاں یہ کہا تھا وَمِن ذُرِّيَّتِي (14:40) میرے متعلق تو الہ العالمین آپ نے یہ وعدہ دیدیا’ کہ ہوگا ایسا جیسا تم مانگتے ہو’ میرے اولاد کے متعلق وہ بھی ہوگا؟  کہا یہ یاد رکھو  لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (2:124) محض تیرے اولاد ہونے کی وجہ سے یہ کچھ نہیں ہوگا’ تم میں سے بھی جو اس مقام کے اوپر نہیں رہے گا’ کسی دوسرے مقام پہ پہنچ جائے گا’ تو ان سے ہمارا وعدہ نہیں ہے ۔ بڑی اہم حقیقت ہے’ جو قرآن اس میں کہہ گیا ہے’ اور یہ حقیقت حضرتِ ابراہیمؑ کے زمانے میں نہیں کہی گئی’ سب سے پہلا نبی جس سے آغاز ہوتا ہے’ سلسلۂ رشد و ہدایت کی داستانِ عظیم کا ‘  حضرتِ نوحؑ ‘  وہاں سے تو یہ بات شروع ہوئی ہے ۔ وہ کہہ دیا کہ یہ تیرا بیٹا ہی نہیں ہے’ اس لیے کہ یہ تو فکر و نظر ‘  عمل و کردار میں’ تیرا متبع نہیں ہے’ اس واسطے تیرے اہل میں سے نہیں ہے’ تیرا اپنا نہیں ہے ۔ وہاں سے یہ بات شروع ہوئی تھی’ اور یہاں پھر دہرا دیا ۔ حضرتِ ابراہیمؑ کی دعا کے بعد کہہ دیا’ کہ نہیں ابراہیمؑ! محض کسی کی اولاد میں سے ہونا کوئی خصوصیت نہیں ہے ‘  کوئی میرٹ نہیں ہے ‘  کوئی اس کا استحقاق نہیں ہے ‘  حق نہیں ہے کوئی ۔ یہ جائیداد نہیں بنٹ رہی’ کہ وراثت میں آجائے گی’ خواہ کسی قسم کا بیٹا ہو ۔ یہاں تو سوال ہی یہ ہے’ کہ ہر فرد کو لیا جاتا ہے’ اس کے اپنے اعمال کس قسم کے ہیں’ نہ یہ کہ وہ بیٹا کس کا ہے ‘  اولاد کس کی ہے ‘  نسل کس کی ہے ۔ آپ نے دیکھا بنیادی طور پر کس چیز کو قرآن مٹانے آیا تھا’ کہ یہی چیز تو انسانیت کی وحدت کے راستے میں کھڑی ہوتی تھی ‘  نسل پرستی ۔ وہیں کہہ دیا’ کہ ابراہیمؑ کا بیٹا یا اس کی نسل میں سے کسی کا ہونا’ وہ اسے اس کا مستحق نہیں بنا دے گا’ کہ جن برکات کا ہم نے ابراہیمؑ سے وعدہ کیا ہے’ وہ مسلسل محض اس لیے کہ وہ اس کی ذریت میں سے ہیں’ انہیں ملتی چلی جائے ۔ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (2:124)۔ لہٰذا عزیزانِ من! نسلی نسبت کسی کی طرف خدا کے میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتی ۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ (49:13) خدا کی نگاہوں میں سب سے زیادہ واجب التکریم وہ’ جو سب سے زیادہ اپنے فرائضِ خداوندی کا ادا کرنے والا ہوگا ۔ معیار ہی بدل دیے ۔ تو جب انسانیت کے اشتراک و اختلاف کے معیار بدلے ہیں’ تو یہ باقی بھی جو معیار تھے وہ بھی تو اس کے ساتھ اسی طرح سے بدل جانے تھے ۔ دعا یہ ہوگئی رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ (14:40)  کیا حسین باتیں ہیں! اے ہمارے نشوونما دینے والے!  سمیع و علیم تو تُو ہے’ سمیع الدعا بھی تُو ہے’ تُو نے دعا سن تو لی ‘  پروردگار!  اسے شرفِ قبولیت بھی تو عطا کر دو ۔ تو اب یہ بھی نظر آگیا’ کہ وہ دعاؤں کا سننے والا تو ہے’ ہر دعا کو شرفِ قبولیت عطا نہیں ہوجاتا ۔ یہ جو مجیب الدعوٰۃ کہا جاتا ہے’ تو وہ یہ بات نہیں ہے’ کہ بندے نے ادھر سے مانگا’ اور وہ بیٹھا ہوا ہے مجبور ہے اس چیز کے اوپر کہ جو مانگا ہے’ وہ جھٹ سے دینا ہے’ کیونکہ مجیب الدعوٰۃ ہے ۔ تو نے جو کہا تھا کہ ہم دعا قبول کرتے ہیں’ میں نے دعا مانگی ہیں’ دو مجھے یہ ۔ اس کے بعد یہ کہا گیا ہے لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ (14:39) تو ہے  تَقَبَّلْ دُعَاءِ (14:40) میری دعا کو شرفِ قبولیت بھی عطا فرما دے۔ دعا کا اگلا حصہ ایک اور بھی آتا ہے ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (14:41) عام ترجمے کے اعتبار سے میں عرض کرتا ہوں’ ایک اہم بات یہاں سے آگے چلتی ہے  ’’اے میرے نشوونما دینے والے!  بہرحال میرے والدین’ اور مومن’ ان کو بھی جب میزانِ عمل کھڑی ہو’ جب اعمال کا حساب ہو رہا ہو ‘‘ ۔ تو میں نے عرض کیا ہوا ہے’ کہ وہ قرآنِ کریم نے خدا کے متعلق تو سریع الحساب کہا ہے’ وہ یہ ہائی کورٹ کی تاریخیں نہیں مقرر کرتا’ آٹھ آٹھ سال گزر جاتے ہیں’ ایک حوالاتی Under Trial  ہی ہوتا ہے ‘  مقدمے کی پہلی پیشی بھی وہاں نہیں آتی ۔ تو یہ ٹھیک ہے’ زندگی تو مسلسل ہے’ آخرت تو اس موت کے بعد بھی یہ زندگی آگے چلتی ہے’ لیکن یہ نہیں ہے’ کہ وہ حساب کو Postpone کرتا رہتا ہے’ کرتا رہتا ہے’ کہ  ’’اک دن ساہڈے آؤ گے ای ناں‘‘  وہ اس کا انتظار نہیں کرتا’ کہ  ’’ساہڈے محلے آؤ گے’ تے فیر دیکھو تہاڈے مگر کتے پاوندے ہیگے آں‘‘ ۔ سَرِيعُ الْحِسَابِ (2:202)۔ ایک ایک سانس میں حساب ہوتا ہے’ میزان تو اس کے سینے کے اندر لٹکی ہوئی ہوتی ہے ۔ تو یہ  يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (14:41) کے یہ معنی نہیں ہوتے’ جہاں بھی قرآن میں یہ آیا ہے’ کہ صاحب!  وہ ایک دن جو مقرر ہے’ اس دن میں یہ چیز جو ہے ۔ ہر ساعت حساب کی ہوتی ہے ۔ کہا یہ گیا ہے کہ میرے ماں باپ کو بھی  رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ (14:41) (عام ترجمہ)  مغفرت عطا فرما ۔ اب یہاں سے صاحب!  ہمارے ہاں ایک مسئلہ چھڑا ۔ اور یاد رکھیے کہ جب بھی بات مسئلہ پہ آجائے گی’ بس سمجھیے اصلِ حقیقت گئی وہ ۔ کیا کہہ گیا ہے وہ شخص’ تقدیر کے متعلق

زندہ قوت تھی جہاں میں کبھی تقدیر

اور اب کیا ہے؟  فقط مسئلہِ علمِ کلام

مسئلہِ علمِ کلام ہوگیا ۔ آپ کے ہاں اب دین جو ہے اس کی ہر بات ‘  ہر کلمہ ‘  ہر نظریہ ‘  مسئلہ بن گیا ہوا ہے ۔ مسائل کی کتابیں آپ کے ہاں ہوتی ہیں ۔ مسئلہ آپ کے ہاں یہ بن گیا ہوا ہے’ کہ غیر مسلم یا مشرک کے لیے’ دعائے استغفار کرنا جائز ہے یا نہیں ۔ اور یہاں سے آگے مسئلہ یہ ہے’ کہ ان کا جنازہ پڑھنا جائز ہے’ کہ نہیں کیونکہ دعائے مغفرت تو جنازے میں کی جاتی ہے ۔ اب اس کے بعد پھر اس کے لیے فتوے ہوتے ہیں ‘  کس کا جنازہ پڑھنا جائز ہے ‘  کس کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ بات کہاں سے یہ چلی تھی؟  بات چلی کہ صاحب!  حضرتِ ابراہیمؑ نے’ اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت کے لیے دعا کی تھی ۔ اور باپ تو مشرک تھا ۔ والدہ کے متعلق تو معلوم نہیں ہے’ قرآن نے صراحت نہیں کی’ لیکن حضرتِ ابراہیمؑ کے باپ کے متعلق تو قرآن کے مختلف مقامات میں پہلا ٹکراؤ ہی باپ کے ساتھ ہوا تھا ۔ اور وہ جو چیز ہے ہمارے ہاں تو پھر آذر ‘  بت تراش کی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ بت تراشیدم نہیں ہے ‘  بت کا تراشنا نہیں ہے ‘  وہ تو بہت بلند مقام تھا’ یعنی آپ نے دیکھا ہے کہ ملوکیت اور پیشوائیت تو دو الگ الگ مملکتیں ہوتی تھیں ۔ بادشاہ اپنی مملکت کا سربراہ ہوتا تھا’ اور یہ جو مذہب کی دنیا میں خواہ وہ کوئی نام بھی تھا’ کسی دور کے اندر ‘  اس کا جو ہیڈ ہوتا تھا’ چیف پریسٹ جسے کہا جاتا ہے’ وہ اپنی مملکت کا سربراہ ہوتا تھا ‘  یہ بہت بڑا مقام تھا ۔ آپ دیکھتے ہیں’ کہ ہامان کس مقام پہ آتا ہے’ فرعون کے ساتھ ۔ جہاں فرعون دیکھتا ہے’ کہ میں بازی ہار رہا ہوں’ وہاں وہ ہامان کو بلاتا ہے ۔ تو یہ حضرتِ ابراہیمؑ کے والد بھی اس مملکت کے اندر ہیڈ پریسٹ تھے’ اور یہ بہت بڑا منصب تھا ۔ یہی تو چیز تھی جو انہوں نے حضرتِ ابراہیمؑ سے کہا تھا’ کہ تو کیا کر رہا ہے ‘  بتوں کی مخالفت کر رہا ہے’ بت پرستی کی مخالفت کر رہا ہے ۔ مجھے تو چھوڑ کہ تیری وجہ سے مجھ پہ کیا آفت آجائے گی’ اتنا بڑا منصب ‘  اتنا بڑا جاہ و جلال ‘  شوکت و عظمت’ یہ چھن جائے گی ۔ ارے! اپنے متعلق تو سوچ’ اس کا تو تُو وارث ہونے والا ہے ۔ یہ تھی پہلی چیز جو باپ کے ساتھ تھی ۔ تو آذر جو تھا’ وہ تو اس شرک کے مسلک کا سب سے بڑا سربراہ اس مقام پہ وہ تھا ۔ بات اب یہاں سے آگئی’ کہ یہ تو صاحب! مشرک تھے’ اس کے لیے یہ مغفرت کی آرزو کیسے ہوجاتی ہے ۔ اب مغفرت کے معنی ہوگئے’ پھر وہی بخشش جو ہے خدا کے ہاں سے ‘  وہاں قیامت کے دن کہ اس کو بخش کر’ جہنم کی جگہ جنت میں بھیج دے ۔ یہ بخشش ہوگئی ‘  مغفرت یہ ہے ۔ بات ہی اور ہے ۔ دوسری جگہ یہ آیا ہے’ وہ میں مقام سامنے لاؤں گا ۔ یہ استغفار کیا ہے؟  مغفرت کے معنی ہیں محفوظ رکھنا ۔ یونہی روزمرہ کی مثال میں سے ایک چیز دیکھ لیجیے ۔ ایک شخص کا بیٹا یا کوئی بھی ہے’ وہ سگریٹ کی بڑی زیادتی کیے چلا جا رہا ہے’ اسے بتایا جا رہا ہے’ کہ اگر اس نے یہ روش اختیار رکھی’ تو اس کو تپ دق ہوجائے گی ۔ وہ سمجھاتا چلا جاتا ہے بیٹے کو’ کہ تباہی آجائے گی’ تپ دق ہوجائے گی’ اتنا نقصان ہوجائے گی ۔ وہ نہیں مانتا’ اس کے بعد وہ سرکشی تک بھی اتر آتا ہے’ نہیں مانتا ۔ باپ کی بحیثیت شفقتِ پدری کا جو تقاضا ہے’ اس کی رو سے’ اس کا دل اس وقت بھی کڑھتا ہے’ اس کی تباہی کے اوپر ۔ وہ ایک دن جھڑک کے’ ڈانٹ کے کہہ دیتا ہے’ ابا جان!  روز روز آپ نے یہ کِل کِل لگا رکھی ہے’ یہ کچھ کر رکھا ہے میں آپ سے کہہ دیتا ہوں’ کہ اس کے بعد مجھے ایک لفظ نہ کہنا اس بات کے اندر ‘  میں قطعاً برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں’ وہ سن لیتا ہے اس پہ بھی کہتا ہے’ کہ ہاں بیٹا!  میں مجبور ہوں جبر تو نہیں کرسکتا’ تمہیں چھڑا دوں ۔ اس کے باوجود میری دعا اب بھی یہی رہے گی’ جسے اس لفظ میں کہا ہے’ کہ خدا تمہیں اس کی تباہی سے بچا لے ۔ کیا معنی ہیں’ اس تباہی سے بچا لے؟  یہ کہ تو سگریٹ پئے چلا جائے’ اور وہ تجھے تپ دق نہ ہونے دے ۔ اس کے معنی یہ ہیں’ کہ ایسا کسی طرح سے ہوجائے’ کہ تو پھر اس کو چھوڑ دے’ یعنی اس کے چھوڑنے سے یہ تباہی سے بچ سکتا ہے ۔ آرزو یہ نہیں ہے’ کہ تُو تو سگریٹ پیتا چلا جا’ اور میں خدا سے دعا کرتا چلا جاؤں’ کہ اسے تپ دق نہ ہو ‘  یا اللہ!  ایسا نہ ہو  ’’ ایسا انمول جیا پوتر جم پیا ہیگا’ میں کی کراں بڑا مجبور ہیگا ایں ‘  میں تے مجبور آں تو تے مجبور نئیں ہیگا ‘‘ ۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یہ سگریٹ پئے چلا جائے’ اور اسے تپ دق نہ ہو ۔ اس آرزو کے معنی یہ ہیں’ کہ خدا تجھے اس تباہی سے محفوظ رکھے‘  محفوظ اسی صورت میں رہ سکتا ہے’ کہ سگریٹ نوشی وہ ترک کردے ۔ کہ میری اب بھی یہ آرزو رہے گی ‘  کوشش میری تو ناکام ہوگئی’ کہ تو نہیں سنتا’ دل کی آرزو میری اب بھی یہی رہے گی’ کہ تو کسی طرح سے اس بد آرزو سے باز آجائے’ تاکہ تُو اس تباہی سے بچ جائے ۔ اسے کہتے ہیں ’’استغفار‘‘ ۔ کسی کے متعلق یہ نیک آرزو دل کے اندر رکھنا’ کہ یہ جو اس کی خراب عادت یا بد کرداری ہے’ یہ اسے کسی طرح سے چھوڑ دے’ تاکہ اس کی وجہ سے آنے والی تباہی سے محفوظ رہ جائے ۔ اسے کہتے ہیں ’’استغفار‘‘ ۔ اور یہاں آخری جو دعا ہوتی ہے’ وہ جنازے کے وقت میں ہوتی ہے’ یعنی جب یہ مواقع ہی نکل گئے ہوتے ہیں’ سگریٹ چھوڑ دینے کے’ اور ان چیزوں کے الگ کرنے کے’ لیکن بہرحال آرزو کا اظہار تو ایک چیز ہے ۔ یہ ہے آرزو کا اظہار ۔ سوال یہ ہے’ کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ جو باپ کے ساتھ آرزو کا اظہار کیا تھا’ قرآن نے اسے کہا ہے ۔ ابراہیمؑ نے باپ سے یہ جیسے وعدہ کیا تھا’ کہ ٹھیک ہے تو مجھے گھر سے نکال رہا ہے’ دھمکی بھی دے رہا ہے’ کہ اگر میں یہیں رہا اور میں نے اپنے اس اعتراض کو’ اس مخالفت کو نہ چھوڑا ‘  اس نے کہا تھا ہم تمہیں سنگسار کردیں گے’ نکال دیں گے’ قوم نے بھی یہ کیا ۔ اس کے باوجود جاتے جاتے بھی ابراہیمؑ نے باپ سے یہ کہا تھا’ کہ آپ تو بہرحال یہ کچھ کر رہے ہیں’ آپ کی سمجھ میں یہ بات آج نہیں آ رہی’ کہ میں آپ کو کس حفاظت اور کس سلامتی کی طرف دعوت دے رہا ہوں ۔ میں جا رہا ہوں اس کے باوجود ابا جان!  یہ آپ کی جو روش میرے ساتھ جو طرزِ عمل ہے’ اس سے یہ نہیں ہوگا’ کہ میں آپ کے لیے اب کوئی بد دعا جسے ہم کہتے ہیں’ کہ یہ کردوں’ گالیاں دینے لگ جاؤں ۔ نہیں!  میری اب بھی یہ آرزو رہے گی’ کہ آپ اس غلط روش کو چھوڑ دیں’ تاکہ آپ اس تباہی سے بچ جائیں’ جو اس کا لازمی نتیجہ ہے ۔ یہ ہے جسے قرآن نے کہا تھا’ کہ ابراہیمؑ نے وعدہ کیا تھا’ اپنے باپ سے’ کہ میں اس کے باوجود یہ دعا کرتا رہوں گا’ میری یہ آرزو برقرار رہے گی’ کہ آپ اس غلط روش کو چھوڑ دیں’ تاکہ اس کی وجہ سے آنے والی جو تباہی ہے’ اس سے محفوظ رہ جائیں ۔ اب یہ دیکھیے قرآن نے دیگر مقامات پر اس چیز کو کیسے کہا ہے ‘  کس حسین انداز سے یہ بات کہی ۔ بات یہاں دیکھیے جو میں نے ابھی اتنی لمبی تفصیل میں عرض کیا ہے’ قرآن نے کس طرح اسے دو لفظوں میں بیان کردیا ہے ۔ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ (9:114) یہ جو ابراہیمؑ نے استغفار کے لیے بات کہی تھی’ باپ کے لیے’ جو حفاظت طلبی کی آرزو اس کے دل میں موجزن ہوئی تھی’ اور رہتی تھی’ وہ اس وعدے کی بنا پہ تھی’ جو اس نے جاتے وقت اپنے باپ سے کیا تھا ۔ وعدے کی بنیاد کیا تھی؟  کیا بات ہے قرآن کی!  وہیں کہتا ہے إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ (9:114) بڑا ہی غمگسار ‘  بڑا ہی ہمدرد ‘  بڑا ہی رقیق القلب ‘  بڑا ہی جگر گداز واقع ہوا تھا ابراہیم ۔ باپ نے یہ کچھ کیا’ اور اس کے باوجود اس کے دل سے باپ کے خلاف بد دعا نہیں نکلی’ کہا یہ کہ آپ جو جی میں آئے کر لیجیے’ میں جانتا ہوں جہالت ہے ۔ میری طرف سے پھر بھی نیک دعائیں ہی آپ کے شاملِ حال رہیں گی ‘  میں اس کے باوجود یہ آرزو کرتا رہوں گا’ کہ آپ اس روش کو چھوڑ دیجیے ۔ میں بار بار یہ بتا رہا ہوں’ کہ مغفرت کے معنی یہ تھے’ کہ آپ اس روش کو چھوڑ دیں’ تاکہ اس کے بعد اس کی وجہ سے آنے والی تباہی سے آپ محفوظ رہ جائیں ۔ دیکھیے!  قرآن نے کن الفاظ میں یہ کہا ہے’ کہ استغفار تو اس وجہ سے تھا ۔ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ (9:114) لیکن جب یہ بات واضح ہوگئی’ ثابت ہوگئی’ کہ ابراہیمؑ کا باپ جو تھا’ وہ بدستور اسی طرح سے خدا کا دشمن رہا ہے’ اور وہ اپنی روش سے باز نہیں آیا’ اس غلط روش کو چھوڑا نہیں ہے’  تَبَرَّأَ مِنْهُ (9:114) تو اس نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ دیکھا!  یہ اس وقت کا وعدہ تھا’ یا جو کہا تھا’ کہ میرے دل میں آرزو رہے گی’ جب اس چیز کا امکان تھا’ امید تھی’ کہ ہوسکتا ہے’ کہ یہ اس وقت تو غصے میں ہیں’ انتقام میں ہیں’ زیادہ مفاد پرستیوں کا لالچ ان پہ غالب آگیا ہے’ شاید اس کے بعد ٹھنڈے دل سے یہ غور کریں’ جوکچھ میں نے کہا ہے’ اور اس وقت ہی اپنی اس روش سے یہ باز آجائیں’ لیکن بعد میں جب یہ بات یقینی ہوگئی’ کہ نہیں !  یہ شخص تو نہیں باز آنے والا’ تو اس وقت پھر یہ امید ٹوٹ گئی ان کے دل سے ۔ یہ ہے  تَبَرَّأَ (9:114) ۔ تَبَرَّأَ کے معنی گالی دینا نہیں ہے ۔ پھر اس کے ساتھ اس نے جو اپنی یہ نیک آرزوؤں کے تعلقات قائم رکھے ہوئے تھے’ یہ ٹوٹ گئے ‘  نہیں!  اب اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔

یوں خدا کی خدائی برحق ہے

پر اثر کی ہمیں تو آس نہیں

یہ مقام آجاتا ہے جس میں وہ دیکھ کے کہ نہیں باز آیا وہ شخص اپنی اس عادتِ بد سے’ اور اس کے بعد پھر دیکھا کہ تپ دق ہوگئی ہے’ اس وقت پھر یہ چیز ہوتی ہے’ کہ افوہو!  کیا ہوگیا ۔ وہ مقام کہ جہاں خدا کے برگزیدہ یہ انسان تو ایک طرف ‘  قرآنِ کریم میں ہے’ کہ جب انسان اپنی غلط روش کے تباہ کن نتائج کی بنا پہ’ جسے جہنم کہا جاتا ہے’ یعنی تباہی کے اندر جا رہا ہے ‘  محاکاتی انداز میں یہ’ کہ اس کو جہنم میں داخل کر رہے ہیں’ دھکیل رہے ہیں ۔ خدا ایسی منظر کشی اس کی کرتا ہے’ کہ محسوس شکل میں بات سامنے آجائے ۔ وہاں جیسے خدائے تعالیٰ عدالت کے تختِ جلال کے اوپر فروکش ہیں ‘  وہاں سے یہ فیصلے دیے جاتے ہیں’ موت کی سزا سنائی جاتی ہے ‘  پھانسی پہ لٹکائے جا رہے ہیں’ گلے میں رسا ڈالا جا رہا ہے ۔ وہاں سے اسی نے جس نے اپنے عدل کے مطابق یہ فیصلہ دیا تھا’ اس کی پھانسی کی سزا کا ‘  قرآن میں ہے کہ وہاں سے آواز آئے گی  يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ (36:30) اور میرے بندو تم نے کیا کیا ہے ۔ آ ہا ہا!  يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ کتنا پیارا ہے ۔ ایک طرف اس قدر  إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ (85:12) ہے کس قدر متضاد صفات ہیں’ جن کا امتزاج کیا گیا ہے’ ایک ذات کے اندر ۔ عزیزانِ من !Personality کہتے ہی اس کو ہیں کہ عدالت کی کرسی کے اوپر بیٹھا ہوا ہے’ تو وہاں پھر قانون ہے ‘  جیسے یونانیوں نے کہا تھا’ آنکھوں پہ پٹی باندھے ہوئے ہے ‘  قانون کی رو سے یہاں فیصلہ ہو رہا ہے ۔ پھر دہرا دینے کو جی چاہتا ہے’ کہ خدا کی صفات کو اپنے اندر منعکس کرنے والی ذاتِ اقدس و اعظم محمد رسول اللہﷺ کا وہی حسین واقع جو ہے’ وہی جو میں نے ابھی عرض کیا ہے’ کہ وہ عدالت کے تختِ جلال سے تو خدا کا فیصلہ بھی یہ ہے’ کہ ٹھیک ہے یہ جہنم کے لائق ہیں پھانسی کے تخت پہ چڑھا دیجیے’ لیکن جب جہنم میں پھینکنے لگتے ہیں’ تو آواز آتی ہے  يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ (36:30)۔ اور وہ واقعہ حضورﷺ کا کہ جب اس یہودی قاتل کو جو آپﷺ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا تھا’ اور آپﷺ نے اس کو انہی کے قانون کے مطابق اس کو قتل کی سزا دی تھی ۔ جلاد سر پہ کھڑا ہوگیا تھا’ تلوار ہاتھ میں لیے ہوئے’ تو اس یہودی کی چھوٹی سی بچی چلاتی ہوئی آئی تھی’ اور حضورﷺ کے ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گئی’ کہ محمدﷺ !  مجھے یتیمی کے داغ سے بچا لو’ میرے باپ کو سزائے موت نہ دو ۔ آپﷺ نے اس بچی کے سر پہ ہاتھ رکھا’ آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ صحابہؓ نے یہ سمجھا کہ اب آپﷺ یہ کہہ دیں گے’ کہ ہاں! چھوڑ دو معاف کردو ۔ آنکھوں میں آنسو آگئے’ اور جلاد کو انگلی سے حکم دیا’ کہ تلوار چلا دو ۔ تلوار چل گئی’ قتل ہوگیا’ لڑکی کو تو سینے سے لگا لیا’ کہا کہ بیٹا!  تمہاری پرورش باپ کی طرح میں کروں گا ۔ بعد میں صحابہؓ نے کہا’ کہ حضورﷺ! ہم سمجھتے تھے کہ جب آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو آگئے تھے’ تو اب آپﷺ اسے چھوڑ دیں گے ۔ ہم سمجھ نہیں سکے’ کہ آنکھوں میں آنسو اور یہ انگلی کا اشارہ’ یہ ہے کیا بات ۔ عزیزانِ من! تاریخِ عالم میں یہ الفاظ لکھے جانے کے قابل ہونگے ۔ کہا کہ آنکھوں کے آنسو محمد بن عبداللہ کے تھے’ انگلی کا اشارہ محمد رسول اللہ(عادل) کا تھا ۔ محمد بن عبداللہ اور محمد رسول اللہﷺ ‘  ایک سینے میں جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں’ تو ان دونوں کے اندر امتیاز رکھنا یا ان میں امتزاج رکھنا جو ہے’ بڑی مشکل کا کام ہے ۔ یہ ہے پل صراط جسے کہا کرتے ہیں ‘  بال سے باریک اور تلوار سے تیز ۔ آنکھوں کے آنسو محمد بن عبداللہ کے تھے’ انگلی کا اشارہ محمد رسول اللہﷺ کا تھا ۔ وہی چیز ‘  داخلِ جہنم وہ میزانِ عدل کر رہی تھی’ يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ (36:30)۔ دیکھا!  کہ یہ کس طرح سے خداوندی صفات اس ذاتِ اقدس و اعظمﷺ کے اندر امتزاجاً جمع ہوگئی ہوئی تھیں ۔ یہ ہے مومن ۔ یہ تھا ابراہیم ‘  لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ (9:114)بھی ہے’ باپ کی تباہی کو برداشت نہیں کرسکتا’ آخری وقت تک کوشش کیے جا رہا ہے’ بہرحال نہیں باز آ رہا’ تو جب یہ یہاں عدو اللہ ہے’ اپنے ساتھ اس کا جو باپ ہونے کا تعلق تھا’ وہ بدستور قائم ہے’ جب دیکھا کہ یہ اللہ کا دشمن اسی طرح سے رہا ہے’ تو اس وقت یہ پھر یہ کہا’ کہ نہیں صاحب!  اب کوئی امید نہیں ہے’ اس کے بچنے کی ۔ عزیزانِ من!  یہ ہے وہ اتنی عظیم حقیقت کہ جو اب آپ کے ہاں مسئلہ بن کے رہ گئی’ کہ نمازِ جنازہ کس کی پڑھی جائے گی’ اور کس کی نہیں پڑھی جائے گی ۔ نمازِ جنازہ نہیں’ یہ تو دنیا میں تعلقات کی بات ہے’ کہ آخر تک کوشش کرتے رہو تم’ کہ انسان اپنی غلط روش کی تباہی کے نقصان سے بچ جائے ۔ اس کی طرف سے سرکشی ‘  بغض ‘  عداوت ‘  گالیاں ‘  یہ کچھ بھی ہو’ تم اپنے دل میں نیک آرزوؤں کو ذاتی انتقام کی بنا پہ نہ بجھنے دو ۔ تم اس کو روشن رکھو’ لیکن جب تم یہ دیکھ لو’ کہ نہیں!  وہ خدا کا دشمن ہوگیا ہے’ وہاں سے باز نہیں آ رہا’ پھر اس وقت تم یہ کہہ کے منہ موڑ لو’ کہ نہیں صاحب! اب کوئی توقع اس کی نہیں رہی ہے ۔ یہ ہے وہ مقام جو انبیائے کرامؑ کی زندگی میں ہجرت کہلاتا ہے ۔ ہجرت Escapism کا نام نہیں ہے’ یہ راہِ فرار نہیں ہے’ گھبرا کے بھاگ جانے والی بات نہیں ہے ۔ اس مقام پہ جہاں یہ دیکھا جاتا ہے’ کہ اب ان کی تو کوئی صورت امکانی ہے نہیں’ ان کی تباہی سے بچنے کی’ تو وہ پھر مریض کی بالی سے کسی معالج کا یہ کہہ کے اٹھ جانا’ کہ اب اثر کی ہمیں تو آس نہیں ۔ پوچھو نہیں مقام کیا ہوتا ہے ۔ معالج غصے میں نہیں اٹھتا’ انتقام میں نہیں اٹھتا’ وہ اس لیے اٹھ جاتا ہے’ کہ وہ سمجھتا ہے کہ اب علاج معالجے کا وقت باقی نہیں رہا ہے ۔ یہ ہجرت ہوتا ہے’ انبیاء کے مقام کے اندر ۔ اور ان کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے’ جہاں سے یہ اٹھ کے چلا جاتا ہے ۔ اس مقام کی طرف چلا جاتا ہے’ جہاں اس کو امکان نظر آتا ہے’ دوسروں کی اصلاح کا ‘  جہاں سعیدروحیں ابھی ہوتی ہیں’ جوانتظار کر رہی ہوتی ہیں ۔ ایسے ایسے مریض جو ابتدائی مرض کے اندر ہوں’ اور وہ علاج کے لیے بے حد آرزو مند ہوں’ وہ وہاں چلا جاتا ہے ۔ یہ ہے اس کا چھوڑنا جوہے’ جسے آپ ہجرت کہتے ہیں ۔ عزیزانِ من!  یہ ہے ۔ میں نے اس لیے عرض کیا’ کہ اس مسئلے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے ۔ پوچھو نہیں ہماری تفاسیر میں پھر کیا کیا اس کے متعلق لکھا ہوا ہے ‘  وہ تو چلتا ہے قصہ ۔ چوں نہ بینند حقیقت رہے افسانہ زنند ۔ ابراہیمؑ نے مشرک باپ کے لیے استغفار کا وعدہ کیوں کیا تھا ۔ اس لیے کہ وہ مُلاں نہیں تھا ۔ وعدہ جب کرلیا تھا’ تو پھر اس کے بعد یہ چیز جو تھی’ کہ اس سے اس نے قطع کرلیا’ یہ کیوں کرلیا تھا ؟  اس لیے کہ وہ حضرت جی نہیں تھے ۔ وہ خدا کا رسول تھا’ اس نے انتہا درجے کی کوشش کرنی تھی’ اس کے لیے’ کہ کسی طرح سے یہ تباہیوں سے بچ جائیں ۔ اور جب آخر میں جا کے یہ دیکھا  عَدُوًّا لِّلَّـهِ (2:98)کیا عجیب لفظ ہے قرآن کا ‘  اس میں ذاتی انتقام ‘  عداوت وغیرہ کا کوئی سوال نہیں ہے ۔ جب اس نے دیکھ لیا’ کہ نہیں صاحب!  یہ خدا کے ساتھ دشمنی میں آخر تک پہنچ گیا ہوا ہے’ اس کے بچنے کی امید اب کوئی نہیں رہی’ یہ ہے وہ مقام جہاں اس نے آکے یہ بات کہی تھی ۔ حضرتِ ابراہیمؑ کی بات یہاں ختم ہوئی ۔

      میں نے عرض کیا ہوا ہے’ کہ قرآنِ کریم کی سورتوں کی جو آخری آیات ہوتی ہیں’ اس میں یہ سارے انبیائے سابقہؑ ‘  اممِ گزشتہ کی ان داستانوں کو بیان کرنے کے بعد’ قرآنِ کریم پھر قومِ مخاطب کے لیے آجاتا ہے ۔ اب یہ سب کچھ بیان کرنے بعد نبی اکرمﷺ سے خطاب ہوجاتا ہے ۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ (14:42) اے رسول!  تم نے دیکھ لیا جو کچھ پیچھے ہم نے کہا ہے’ تو اب یہ نہ سمجھ کہ تیرہ سال یہاں مکے میں ہوگئے’ کوئی تبدیلی ہی نظر نہیں آتی ان کی’ تو یہ کیا ہوگیا؟ خدا دیکھ نہیں رہا’ یعنی عام الفاظ میں تو یہ تباہی کیوں نہیں آ رہی ۔ اس کا خیال ‘  وہم و گمان بھی نہ کرو ۔ اور یہ جو چیز ہے’ یہ رسول اللہﷺ سے ہی نہیں کہا جاتا’ بلکہ ہر مخاطب سے کہا جاتا ہے’ ہر دور میں کہا جائے گا’ اس سے کہ جو اس دعوت کو لے کر اٹھے گا’ کہ اس سے گھبرا نہ جاؤ’ کہ لمبا عرصہ گزر گیا’ اتنی مدت گزر گئی’ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک ۔ وہ کہتا ہے’ تیرے جینے اور مرنے کا سوال ہی نہیں ہے ۔ زلف نے تو سر ہونا ہے’ تو یہاں رہے نہ رہے’ مقصد زلف کے سر کرنے کا تھا’ نہ کہ یہ تیرے ہاتھ میں آجائے ۔ یہ روتا اس لیے ہے’ کہ میرے ہاتھ میں کیوں نہیں آئی ۔ کہا سوال ہی نہیں ہے۔ وہی سورۃ الرعد کی وہ آیت’ جو حضورﷺ نے کہا تھا’ کہ یا اللہ! اپنی آنکھوں سے بھی کچھ دیکھوں گا یا میری عمر انہی تکلیفوں میں گزر جائے گی ۔ وہاں یہ بات تھی زلف تو سر ہو کے رہے گی’ لیکن  فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (13:40) تیرے ذمہ تو اس بات کا پہنچائے چلے جانا ہے’ تُو اپنی فریضہ ادا کر’ یہ حساب ہمارے پاس ہے’ کہ تباہی کا وقت کب آتا ہے ۔ پہلے دن کی سگریٹ نوشی سے تپ دق نہیں ہوجایا کرتی’ ہم جانتے ہیں کہ کس مقام کے اوپر جا کے یہ ہوگی ۔ تیری ان چیزوں کے ساتھ کہ صاحب!  میں دیکھوں گا یا نہیں دیکھوں گا’ تو یہ ہو نہیں سکتا کہ ہمارا جو قانون ہے کہ کتنی زہر جمع ہو’ تو تپ دق ہوا کرتی ہے’ ہم تیری خاطر اس کو بدل دیں’ کہ تُو تو تڑپتا دیکھ لے اس کو ‘  سوال نہیں ہے ۔ نہ ہی یہ چیز ہے کہ جو کچھ یہ کر رہا ہے’ یہ تپ دق اس کو ہوتی کیوں نہیں ہے ‘  یہ کہے کہ صاحب!  یونہی کہہ گیا تھا’ بکواس ہے دیکھیے تو ہم اتنا عرصہ ہوگیا یہ پیتے ہیں’ یہ ڈاکٹروں کی بک ماری ہوئی ہے’ کہتے ہیں سرطان ہوگا’ کچھ بھی نہیں ہوا ۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ (14:42) یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم بالکل بے خبر بیٹھے ہوئے ہیں ‘  ہمیں پتہ ہی نہیں چل رہا’ کہ کیا کر رہے ہیں ۔ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ (14:42) یہ مہلت کا وقفہ ہے’ پہلے دن کے سگریٹ میں اور آخری دن جب پھیپھڑے کا سرطان آجاتا ہے’ درمیان کا وقفہ جو ہے’ یہ مہلت کا وقفہ ہے ۔ اور بار بار قرآن یہ بتاتا ہے’ کہ کتنی بڑی ترحمِ خسروانہ تھی ہماری طرف سے’ جو مہلت کا وقفہ دیا’ ورنہ جو پہلے سگریٹ کے اوپر ہی سرطان ہوجاتا’ قرآن نے کہا ہے اس کرۂ ارض کے اوپر کوئی انسان باقی ہی نہ رہتا ۔ مہلت کا وقفہ درمیان میں دیا جاتا ہے’ کہ اب بھی باز آجاؤ ‘  اب بھی باز آجاؤ ۔ وہ ہے  خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (101:8) یہ نہیں ہے کہ اس میزان کے پلڑے میں پہلے دن برائی یوں آئی’ اور وہ جھک گیا ۔ دونوں پلڑے رکھے جاتے ہیں’ کونسا پلڑا جھکا ہوا ہے’ تعمیر کا پلڑا جھکا ہوا ہے’ تو تخریب کے پلڑے میں بھی تو پرچیاں پڑ رہی ہیں اس دن’ لیکن جس دن تخریبی پلڑا جھک گیا بس اس دن ہے جو نتیجہ نکلے گا ۔ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ (14:42) اور دیکھیے کہ یہ ہم اس کو مؤخر کیے چلے جا رہے ہیں’ اس وقت تک ۔ اب یہ جو کشمکش ہو رہی تھی’ مکے کی کشمکش کی زندگی پھر حضورﷺ تشریف لے گئے’ تو مدینے میں جا کے پھر یہ ابھر کر میدانِ جنگ میں آئی ہے یہ کشمکش جو تھی ۔ مکے کی زندگی تک یہ چیز نہیں تھی ۔ عزیزانِ من! آگے جو نقشہ کھینچا ہے’ دیکھیے کیا نقشہ ہے ۔ میدانِ جنگ میں مقابل میں آ کے شکست خوردہ جو مقابل کی فوج ہوتی ہے’ اس کی تباہی کا’ اس کی بھگدڑ کا’ جو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے ۔ میں عرض کردوں کہ یہ جتنی بھی قرآنِ کریم میں اس قسم کی آیات ہیں’ جس میں اس تباہی ‘  بربادی کا’ جسے عذاب کہا جاتا ہے’ اس کا کچھ نقشہ کھینچا گیا ہے۔ تو یہ ٹھیک ہے’ اسے اگر آپ لینا چاہیں’ تو جسے آپ موت کے بعد قیامت اور جہنم وہ کہتے ہیں’ اس تک لے جائیے’ آپ کا جی چاہے تو وہ معنی کر لیجیے’ اور اگر اسی دنیا کے اندر جو نقشہ سامنے آتا ہے’ ان تباہیوں کا’ اسے لینا چاہیں’ تووہ بھی اس کے اندر سے یہ معنی نکلیں گے ۔ میں یہاں کے معنی لے لیا کرتا ہوں ۔ اُس سے ان میں انکار نہیں ہے’ وہ تو میں نے کہا ہے کہ  وَمَن كَانَ فِي هَـٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ (17:72) یہاں کا ذلیل وہاں کا بھی ذلیل ہوگا ۔ زندگی مسلسل چلتی ہے’ اس لیے ابتدا اس کی یہیں سے ہوجاتی ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں’ کہ یہ مکی زندگی کے اندر ابتدائی جو دور تھا’ اس میں یہ جو آنے والے نقشے تھے’ سات سال کے’ ان نقشوں کے متعلق قرآن نے یہ بتایا ہے۔ دیکھیے کن الفاظ میں ہے ۔ ہم نے مؤخر کر رکھا ہے’ اسے یہ جو کچھ اس ٹکراؤ میں یہ کہہ رہے ہیں ‘  سمجھ رہے ہیں’ کہ اللہ تو یا  غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ (14:42) ظلم کرنے والے جو جی میں آئے کرتے چلے جائیں’ کوئی ان کو پکڑنے والا ہی نہیں ہے ۔ تو یہ نہ سمجھ لیں کہ پکڑنے والا ہی نہیں ہے’ ہم نے مؤخر کر رکھا ہے ۔ لِيَوْمٍ (14:42) دیکھیے گا کہ وہ دن کیسے آ رہا ہے ‘  کیا منظر کشی ہے!  تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ (14:42) جب اس دن کیفیت یہ ہے’ کہ خوف سے ‘  ڈر سے ‘  انسان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی’ ڈھیلے باہر آجائیں گے ۔ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ (14:43) اور اس طرح سے میدان سے بھاگے چلے جائیں گے’ کہ ہوش ہی نہ ہوگا ۔ سر اٹھائے ہوئے ہیں’ نہ دائیں دیکھتے ہیں’ نہ بائیں دیکھتے ہیں’ سیدھ میں لگے چلے جا رہے ہیں’ کوئی ہوش حواس نہیں ہے ۔ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ (14:43)  کسی دوست کا ‘  کسی حامی کا’ ان کی طرف آنا’ تو ایک طرف رہا’ ان کی اپنی نگاہ جو آنکھ کے کاشانہ سے نکل جاتی ہے’ وہ بھی واپس نہیں لوٹتی ۔ واہ واہ! کیا عالم ہے بدحواسی کا ۔ کیوں یہ کچھ ہوا ہے؟ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ (14:43) ان کے دل امیدوں سے خالی ہوگئے ہیں ۔ کچھ بھی امید باقی رہے’ تو پھر بہرحال پلٹ کے تو آدمی پیچھے دیکھتا ہے’ کہ وہ دشمن کتنا ہے’ کتنی دور پیچھے آ رہا ہے’ آ بھی رہا ہے یا نہیں آ رہا’ ہم یونہی بھاگے چلے جا رہے ہیں ۔ کہتا ہے یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے’ جب دل امیدوں سے خالی ہوجاتا ہے ۔ پھر اس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی’ کہ وہ پلٹ کے ہی دیکھ لیں’ کہ پیچھے کوئی آ بھی رہا ہے یا نہیں ۔ کیا بات ہے صاحب! یہ کہنے کے بعد پھر رسولﷺ سے کہا وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ (14:44) اس آنے والی تباہی سے آگاہ کرو ان کو ۔ تو گویا وہ ابھی دور ہے’ کہ جس کے اندر ابھی یہ أَنذِر جو ہے’ اس کا دور ہے ۔ ان کو آگاہ کرو اس سے’ کہ یہ کچھ تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ۔فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ (14:44)  کئی مقام میں یہ باتیں آتی ہیں ۔ وہ وقت کہ پھر’ اس وقت یہ کہیں گے کہ اے ہمارے خدا!  اگر ایک دفعہ اور ہمیں موقعہ دیدے یہاں کا’ تو پھر تُو دیکھ کہ ہم کس طرح سے اپنی اصلاح کرتے ہیں’ کس طرح سے تیرے رسولوں کا کہنا مانتے ہیں ۔ کہا کہ مہلت کے وقفے کے دوران تو اس کا امکان تھا’ کہ یہ بچ جائے’ لیکن جب وہ موت آجائے’ تو پھر تو اس کا امکان نہیں رہتا ۔ اس وقت یہ حسرت ‘  موت کو ‘  تباہی کو سامنے دیکھنے کے بعد’ یہ حسرت ۔ اور اس میں ایک بڑا Psychological پہلو ہے ۔ یہ حقیقت میں صداقت پر ایمان نہیں ہوتا’ یہ موت کا ڈر ہوتا ہے’ جس سے انسان یہ کہتا ہے ۔ اسی لیے قرآن نے قصۂ فرعون میں بات جب وہ کہی ہے’ عجیب بات کہی ہے ۔ فرعون جب ڈوبنے لگا’ قرآن میں یہ ہے’ کہ اس وقت پھر فرعون نے یہ کہا’ کہ بارِ خدایا!  میں ایمان لایا موسٰیؑ اور بنی اسرائیل کے خدا کے اوپر ایمان لاتا ہے ۔ اعلان ہے ایمان لانے کا ‘  قبول ہونا چاہیے ۔ کیا بات قرآن نے کہی ہے!  فرعون سے کہا’ کہ اتنی بڑی قوتوں ‘  جبر اور استبداد اور شوکت اور عظمت اور دعاوی کا تو انسان تھا’  أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ (79:24) کہنے والا ۔ عام طور پہ سمجھا جاتا تھا’ کہ تیری خودی مستحکم ہے’ لیکن کیفیت یہ ہے کم بخت تیری بزدلی کی’ کہ موت سامنے دکھائی دی’ تو عمر بھر کے اپنے مسلک کے بعد توبہ کرکے کہہ رہا ہے’ کہ میں ایمان لایا ہوں  ’’فٹے منہ تیرا ہور کچھ نہیں ہے ‘‘ ۔ یہ وہ چیز تھی’ کہ یہ ایمان ایمان نہیں تھا ۔ کہا یہ گیا تھا’ کہ ’’در کفر ہم پختہ نئی زنار را رسوا مکن‘‘ ۔ عزیزانِ من! یہ فرق ہوتا ہے ۔ یہ جو عام طور پہ بڑے بڑے جابر اور ڈکٹیٹر اور یہ کچھ بنے پھرتے ہوتے ہیں ۔ قرآن اس میں ایک بڑی بات سائیکولوجی کی کہہ گیا ہے ۔ یہ ان کا جو جبر ہوتا ہے’ ان کی جو قوت کا مظاہرہ ہوتا ہے’ خوف کا مظہر ہوتا ہے’ اندر دل میں ایک خوف ہوتا ہے’ ایک ڈر ہوتا ہے جس کی وجہ سے باہر یہ بھبکیاں مارتے ہیں’ جو فی الحقیقت قوی ہوتا ہے اس کو ضرورت نہیں ہوتی بھبھکی مارنے کی ۔ اسے قرآن حَلِيم کہتا ہے ۔ بھرپور توانائیوں والا اونٹ ‘  آ ہا ہا!  کیا کیا الفاظ ہیں قرآن کے!  ’’ آ ساہڈے تے حلیم ہیگا اے جنوں کہندے نیں حلیم ‘  آ اوندی اے محرم ہن ‘  حلیم ‘  پتہ ای نہ لگے پئی اے چھولیاں دی دال ہیگی اے یا کنک دا دانہ ہیگا اے ما دانہ ہیگا ‘‘  اور پھر حَلِيم ہمارے ہاں حلیم الطبع جسے کہتے ہیں کہ  ’’کوئی ایدھر چپیڑ مار جائے تاں وی کچھ نئیں جے ایدھر مار جائے تاں وی کچھ نئیں ۔ او کہن لگا اخے ویکھ آیا ایں رشتہ ؟  کہن لگا میں لڑکی دا رشتہ ویکھ آیاں منڈا ایہڈا چنگا نظر آیا بڑا ہی شریف ہیگا میں دوکان تے ویکھ آیاں ‘  کہن لگا ٹھیک ہیگا ہے ۔ کہن لگا اوہدی حالت اے ہیگی اے پئی اوہنوں کوئی گاہک چار گالاں دے جاندا اے تے او تاں وی کچھ نئیں کہندا ۔ کہن لگا اوہدے کوئی چار پیسے مار کے لے جاندا اے تے تاں وی کچھ نئیں کہندا ہیگا ۔ کہن لگا اوہنوں اخے کوئی چپیڑ مار کے اوہدے کچھ کھو کے لے جاندا اے تاں وی کچھ نئیں کہندا ہیگا ۔ کہن لگا بھائی فیر ایتھے تے رشتہ نئیں او میں کرنا ۔ کہن لگا جی میں تینوں ایناں صفتاں دسیاں؟  کہن لگا کل نوں اوہدی کوئی بیوی لے گیا اوہنے تاں وی کچھ نئیں کہنا ۔ ساہڈے تے حلیم اینوں کیندے نیں ‘  ہو جا ککھ مسیت دا ‘‘ ۔ آپ کا تصوف پھر کیا کرتا ہے

ہم تھے پوت پٹھان کے دَل کے دَل دیں موڑ

شرن لگے رگوناتھ کے تنکا جائے نہ توڑ

یہ پھر آپ کے ہاں حلیمی آتی ہے ‘  خالص Christianity کا’ عیسائیت کا جو تصور ہے’ وہ وہ تصور آپ کے ہاں آجاتا ہے ۔ آپ کو معلوم ہے’ خدا کے لیے بھی صفتِ حَلِيم آئی ہے’ انسانوں کے لیے بھی آئی ہے ۔ یہ بڑی بلند صفت ہے ۔ اور اگر یہی صفت ہے’ تو یہ تو خالص عیسائیت کی بات ہے ۔ نہیں عزیزانِ من! ان سے پوچھو جن کی زبان میں یہ قرآن آیا ہے’ کہ یہ کیا کہتے ہیں ۔ یہ جو کمزور سے جانور ہوتے ہیں’ ہر وقت ان کے دل میں دھڑکا ہوتا ہے’ کہ یہ آیا ڈنڈا لے کے آیا ہمیں مارنے ‘  وہ کوئی بھی آئے اس کو مارنے کی پہل کرتے ہیں ۔ یہ ان کے اپنے اندر ایک خوف ہوتا ہے’ اس کے لیے یہ کرتے ہیں ۔ یہ کہتے تھے کہ ایک اونٹ جو بھرپور توانائیوں کا مالک ہو’ وہ بیٹھا ہوا ہے’ آنکھیں بند کیے ہوئے ہے’ بڑے مزے میں جگالی کر رہا ہے ۔ کہنے لگے وہ بچے آتے ہیں’ کوئی اس کی پیٹھ پہ چڑھ جاتا ہے’ کوئی گردن پہ سوار ہوجاتا ہے’ کوئی کان پکڑ لیتا ہے’ کوئی اس کی دم کھینچتا ہے ۔ کہنے لگے وہ ان تمام چیزوں سے مستغنی رہتے ہوئے’ اپنی جگالی میں مزے میں بیٹھا رہتا ہے ۔ اسے حلیم کہتے تھے وہ ۔ اپنی قوتوں کے اوپر اتنا اعتماد’ کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہیں یہ بچہ آ کے پیٹھ پہ چڑھ گیا’ کسی نے کان پکڑ لیا’ اس سے بپھر جانا’ یہ تو کہنے لگے کمزوروں کی نشانی ہے ۔ قوت اور اس میں پھر توازن ‘  اسے استحکامِ خودی کہتے ہیں ۔ خدا کے حَلِيم ہونے کے معنی یہ ہیں’ کہ وہ تمہاری طرح چھوٹی چھوٹی سی باتوں کے اوپر اوچھے پن پہ نہیں اتر آتا ہے ۔ بڑا حَلِيم واقع ہوا ہے ۔ جس کو اپنی گرفت کے اوپر یقین ہو’ وہ چھوٹی چھوٹی سی باتوں کے اوپر نہیں بپھر جاتا ۔ ابراہیمؑ کے متعلق کہا’ کہ حَلِيم تھا ‘  محمدﷺ کے متعلق کہا کہ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ (9:114) تھا ‘  مومن کے متعلق کہا حَلِيم ہوگا ‘  خدا کے متعلق کہا’ کہ وہ حَلِيم ہوتا ہے ۔ کہا کہ یہ جو درمیانی عرصہ ہوتا ہے’ مہلت کا اس میں تو یہ ہے ۔ آپ نے دیکھا کہ فرعون کے اس اعلان پہ بھی’ کہ میں ایمان لایا’ میرا آپ کا جی یہی چاہے گا’ کہ اس کے بعد یہ کہا جاتا  ’’شاباش ہے چلو مرن ویلھے ای سہی ایمان تے لے آندا تیری عاقبت تے بخیر ہوگئی ‘‘ ۔ کیا تقابل ہے ۔ ایک طرف فرعون تھا’ کہنے لگا’ تُو وہ تھا جو کہتا تھا  أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ (79:24) وہی ہے تُو  ’’او فٹے منہ تیرا ‘‘  موت سامنے دیکھ کے اور اس کے بعد اپنے اس مسلک سے پھرنا’ یہ صداقت کا اعتراف نہیں ہے’ موت کا ڈر ہے ۔ عزیزانِ من!  ایمان تو کسی ڈر سے بھی لایا جائے’ وہ اکراہ فی الدین ہوجاتا ہے ۔ بطیب خاطر نہیں ہے’ وہ ڈر موت ہی کا ڈر کیوں نہیں ہو ۔ اور قرآن کے لیے ‘  اس ایمان کے لیے اسی لیے عربوں جیسی قوم کا انتخاب ہوا تھا’ کہ اگر وہ واقعہ تاریخ کا صحیح ہے’ اور مجھے عربوں کے کریکٹر کے اعتبار سے صحیح نظر آتا ہے’ کہ نبی اکرمﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کو جب ان کی وفات کے وقت میں یہ کہا’ کہ چچا جان!  آپ نے تو میری زندگی دیکھ لی’ میرا پیغام بھی دیکھ لیا ۔ ٹھیک ہے اس کا اعتراف کر لیجیے’ اس چیز کے متعلق جو کہا گیا ہے ۔ ابو طالب نے یہ بات کہی’ کہ جانِ پدر!  ٹھیک ہے میں نے یہ سارا کچھ دیکھ لیا’ لیکن اگر اس وقت میں اعلان کروں گا’ تو یہ پھر یہ قریش کہیں گے’ کہ ابو طالب نے موت کے ڈر سے ایمان قبول کرلیا’ اس لیے مجھے جانے دو اسی روش کے اوپر ۔ یہ شخص فرعون سے کہیں اونچا چلا گیا ۔ یہ ہے وہ چیز ۔ وفاداری بشرطِ استواری’ اصل ایماں ہے ۔ کہا کہ جب وہ موت سامنے آئے گی’ کہ تو یہ کہیں کہ بارِ خدایا!  اگر پھر یہ مواقع ہمیں حاصل ہوجائیں’ تو ہم یہ کریں’ ہم اچھے بنیں گے ۔ کئی مقامات کے اوپر یہ سب کچھ آیا ہے ۔ کہنے لگے کہ کیا تمہیں بار بار یہ نہیں کہا جاتا تھا’ کہ اس کے بعد یہ ہوگا’ تم نے ایک نہ سنی ۔ اب جب یہ ہوچکا ہے’ اور پھر یہ کہنا جو ہے’ اس کا کچھ حاصل نہیں ہے ۔ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ (14:44) کہا تمہاری کیفیت یہ تھی’ کہ حریمِ کعبہ میں کھڑے ہو کے’ قسمیں کھا کھا کے کہا کرتے تھے’ کہ یونہی یہ کچھ کر رہے ہیں ‘  ہمیں زوال نہیں آسکتا ۔ تم تو قسمیں کھا کھا کے کہا کرتے تھے’ اب دیکھا ہے کہ موت کا ڈر جو ہے’ اس سے تم کیا کچھ کر رہے ہو ۔ اس کے بعد وہ دلائل دہراتا ہے ۔ کہتا ہے تمہیں یہ بتایا جا رہا تھا’ یہی بات نہیں تھی’ کہ ہم تجریدی طور پر Theoratically (نظری طور پہ )  یہ باتیں تمہیں کہتے تھے’ کہ تمہاری اس روش کا یہ انجام ہوگا ۔کہا تمہارے سامنے تاریخی شواہد ہم پیش کیا کرتے تھے’ کہ یہ جو تم دن رات ان راستوں پہ چلتے ہو’ راستے میں تمہارے یہ اجڑی ہوئی بستیاں آتی ہیں’ موہن جوداڑو کی’ اور ہڑپہ کی ۔ وَسَكَنتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ (14:45) تم انہی لوگوں کے گھروں میں بسے ہوئے تھے’ ان گھروں میں وہ لوگ بستے تھے’ جو تم سے زیادہ شدت کے ساتھ’ شدید قوت رکھتے تھے ۔ اور ہم تمہیں یہ کہتے تھے’ کہ جب وہ اپنی اس غلط روش کی بنا پہ ان گھروں میں نہ رہے’ یہ سلطنتیں ان سے چھن گئیں’ یہ مملکتیں ان سے چلی گئیں’ جن کے تم وارث ہوئے ہو’ تو کیا یہ بات منطقی نہیں ہے’ کہ تم بھی وہ کچھ کرو گے’ تو یہ تم سے بھی چھن جائے گی ۔ کیا Logicہے قرآن کا!  میں نے کہا ہے کہ محض Theoratical گفتگو نہیں کرتا’ تاریخی شواہد پیش کرتا ہے ۔ اسی لیے اس نے تاریخ کو اس نے اہمیت دی ہے ۔ کہا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف قرآن نازل کیا’ اور تاریخی شہادتیں نازل کیں ۔ یہ تو منزل من اللہ ہوتی ہیں ۔ کیا بات یہاں کہی ہے’ کہ قسمیں کھایا کرتے تھے’ اور ہم تم سے کہا کرتے تھے’ کہ اور باتوں کو تو چھوڑو’ یہ دیکھ لو کہ یہ مملکت جس کے تم مالک بنے ہوئے ہو’ اور صاحبِ اقتدار ہو اور اس کی بنا پہ تم اتنے اتنے بڑے جبر و استبداد کے دعاوی کر رہے ہو’ یہ کل کسی اور کی تھی’ اس سے چھینی ہے’ تمہارے قبضے میں آئی ہے ۔ اس سے کیوں چھن گئی تھی؟  وہ تم سے زیادہ قسمیں کھایا کرتے تھے’ تم سے زیادہ جابر تھے’ یہی کچھ انہوں نے کیا تھا ۔ تو کیا یہ اس کا منطقی نتیجہ نہیں’ کہ جو ہم کہہ رہے ہیں’ کہ تم وہی کچھ کرو گے’ تو یہی کچھ تمہارے ساتھ ہوگا ۔ وَسَكَنتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ (14:45) اور ہم واضح طور پہ تمہیں بتایا کرتے تھے’ کہ ان کی روش کا نتیجہ کیا ہوا ۔ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ (14:45) اور مختلف قسم کی شہادتیں ‘ واقعات ‘  داستانیں ہم تمہارے سامنے پیش کیا کرتے تھے ‘  مثالیں دے دے کے بھی تمہیں سمجھایا کرتے تھے ۔ وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِندَ اللَّـهِ مَكْرُهُمْ (14:46) اس کے باوجود وہ چالیں چلتے رہے ۔ بجائے اس کے کہ غلط روش اور نظام کو چھوڑیں’ وہ تو وہی رکھا بدستور’ اور اپنے آپ کو فریب دے کے’ اسکی تباہی سے بچنے کے لیے چالیں چلتے رہے ‘  تدبیریں کرتے رہے ۔ بھول گئے’ کہ خدا کا قانون بھی تدبیریں جانتا ہے ۔ قرآن میں دوسرے مقام پہ ہے’ کہ یہ تدبیریں کرتے رہے’ یہ رخنہ بند کردو’ یہ سوراخ بند کردو ۔ کہنے لگے تباہی اس مقام سے آئی جو ان کے وہم و شعور میں بھی نہیں تھا’ کہ یہاں سے بھی آیا کرتی ہے ۔ وَعِندَ اللَّـهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ (14:46) انہوں نے اپنے ذہن میں سمجھا ہوا تھا’ کہ بس اب کے ایسی پلاننگ ہم نے کرلی ہے’ کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے’ ہم نہیں ہل سکتے ۔ یہ تھا اپنے ذہن کے اندر ‘  یہ بھی ہم نے مار لیا ‘  وہ بھی ہم نے کرلیا ۔ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ (14:47) کہیں اس ان سے کہہ دو زعمِ باطل کے اندر گرفتار نہ ہوجانا’ کہ خدا جو اپنے رسولوں سے وعدہ کیا کرتا ہے’ وہ پورا نہیں ہوا کرتا ‘  محض مہلت کا وقفہ ہے ۔ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ (14:47) عزیز ‘  بڑی قوت والا ہے ۔ پھر یہ انتقام کا لفظ جو ہے’ یہ اردو کا نہیں ہے’ یہ عربی کا لفظ ہے ۔ یہ جو چرواہے بھیڑوں کو ایک راستے کے اوپر لیے چلے جاتے ہیں’ تو چلانا ہوتا ہے سیدھے راستے کے اوپر ‘  ان میں سے بکھر کے کچھ ادھر چلی جاتی ہیں’ کچھ اُدھر چلی جاتی ہیں ‘  وہ کیا کرتا ہے ؟  لٹھ اس کے پاس ہوتی ہے ادھر جاتا ہے’ ان کو دو تین مارتا ہے لاتا ہے راستے کے اوپر ‘  اِدھر جاتا ہے ان کو مارتاہے یوں لاتا ہے ۔ اس طرح سے یوں بگڑنے والی بھیڑوں کو اس راستے کے اوپر لے آنا جو ہے’ اسے وہ انتقام کہتے تھے ۔ ذُو انتِقَامٍ (14:47) جو یوں راستے کے درمیان میں نہیں چلا کرتے’ وہ ان کو پھر لٹھ کے ذریعے سے لاتا ہے ۔ عزیز بڑی قوتوں کا مالک ہے ۔ کہا ان سے کہہ دو وہ دور آنے والا ہے ۔ عزیزانِ من!  یہ سننے کی باتیں ہیں’ آخری آیتیں آ رہی ہیں ۔ کہا یہ اس وقت دیکھ رہے ہیں’ کہ کس قدر کمزور ‘  ناتواں ‘  بے کس ‘  بے بس’ یہ ایک جماعت ہے ‘  مٹھی بھر تعداد بھی اتنی ہے ‘  وطنوںکو چھوڑ کے بھاگ گئے’ یہ سب کچھ ۔ ان ٹکراؤ کی باتیں کر رہے ہیں ‘  کہتا ہے یہ ٹکراؤ جو ہے قرآن نے کہا’ یہ ٹکراؤ ہونگے’ یہ تصادمات ہونگے’ یہ تم چالیں چلو گے’ ان چالوں کا جواب ہوگا’ یہ سارا کچھ ہوگا ۔ اور اس کے بعد انجام کیا ہے؟  سنیے حفیظ صاحب ! يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ (14:48) یہ زمین بدل جائے گی یہ آسمان بدل جائے گا’ یہ نظام الٹ کے رہ جائے گا ۔ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ (14:48)   ۔ عزیزانِ من! اس شکوہ و شان کے ساتھ اور کون کہے گا’ یہ زمین بدل جائے گی ۔ یہ ہماری بعد کی شاعری ہے جو اس کو استعمال کرتے ہیں ۔ قرآن نے اس انداز سے یہ کہا ہے’ کہ یہ زمین بدل جائے گی’ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ (14:48) بدل کے فنا نہیں ہوجائے گی’ اس زمین کی جگہ دوسری زمین آجائے گی’ اس آسمان کی جگہ دوسرا آسمان آجائے گا ۔ وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (39:69) کونسی وہ زمین ہوگی؟  وہ زمین کہ جو خدا کے نور سے جگمگا رہی ہوگی ۔ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ (14:48) عزیزانِ من!  انقلاب کے لیے یہ الفاظ استعمال کرنا’ اس دور میں قرآن ہی کا کام تھا ۔ یہ زمین بدل جائے گی’ یہ آسمان بدل جائے گی ۔ یہی وہ چیز تھی جو اقبالؒ نے کہی تھی انقلاب کے لیے عزیزانِ من!  اس کی یہ زبورِ عجم کی نظم بڑی عجیب تھی ۔

یا بکُش در سینۂ ما آرزوئے انقلاب

یا تو تُو میرے سینے کے اندر یہ جو انقلاب کی آرزو ہے’ اس کو ختم کردے اور یا  

یا دگرگوں کُن نہادِ ایں زمان و ایں زمیں

یا چُناں کُن یا چُنیں

اور یا پھر یہ زمین بدل دے’ یہ آسمان بدل دے’ یا یہ کر یا وہ کر ۔ یہ جو بین بین مجھے رکھا ہے’ سینے میں آرزوئے انقلاب بھی ہے’ زمین بھی وہی ہے’ آسمان بھی وہی ہے ۔

نہ وہ بدلا نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی

میں کیسے اعتبارِ انقلاب آسماں کرلوں

وہ کہتا ہے کہ یہ نہیں ہوتا’ اور کچھ نہیں تو یہ آرزو ہی بدل دے ۔ یہ بھی تو ان کے ہاں یہاں نہیں ہوسکتا ‘  یہ بھی مشکل ہے کہ تجھ پہ قابو نہیں دل پہ تو ہے قابو ۔ قرآن سمجھ میں آتا ہے’ تو دل پہ قابو نہیں رہتا’ پھر یہ آرزوئیں نہیں مرتیں’ آدمی اسی تڑپ میں مر جاتا ہے ۔ یا بکُش ‘  کس قدر چیخ ہے جو اس کے سینے سے نکل گئی ہے کہ

یا بکُش در سینۂ ما آرزوئے انقلاب

یا دگرگوں کُن نہادِ ایں زمان و ایں زمیں

 یا چُناں کُن یا چُنیں

وہ جو شعر میرے سامنے اندر لگا ہوا ہے

فقر بخشی؟ با شَکوہِ خسروِ پرویز بخش

یا عطا فرما خرَد با فطرتِ روح الامیں

یا چُناں کُن یا چُنیں

عجیب چیز ہے ۔ بہرحال!  بات یہ کہہ رہا تھا’ کہ ان سے کہہ دو کہ تم جو کہہ رہے ہو کہ یونہی مذاق ہو رہا ہے خدا کو علم ہی نہیں ہے’ غافل ہو رہا ہے کچھ نہیں ہوگا ۔ کہا وہ انقلاب آئے گا’ کہ اس زمین کی جگہ دوسری زمین آجائے گی’ آسمان کی جگہ دوسرا آسمان آجائے گا ۔ وَبَرَزُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (14:48) ایک خدا کا قانون ہوگا’ اور وہ قانون اس الْقَهَّارِ کا ۔ یہ جو گوشت ہمارے ہاں گلتا نہیں ہے اور اس گوشت کو پھر خاص طور پہ کچھ پپیتا ذرا سا ڈالو ‘  سوڈا ڈالو ‘  یہ کچھ کرو ۔ اس کو جب گلایا جاتا ہے’ اس کو کیا کہتے ہیں؟  اتنے سخت گوشت کے بنے ہوئے یوں گلا دیا جائے گا ۔ وَبَرَزُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (14:48) اس وقت تو یہ کیفیت ہے’ تمہاری کوئی یوں چھپ گیا’ کوئی یوں چھپ گیا’ کوئی بلوں میں گھس گیا’  بَرَزُوا نمایاں ہو کے اس عدالت کے سامنے سارے آجاؤ گے’ اور عدالت ہوگی خدائے الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (14:48) کی ۔ یہ ہوگا’ یوں یہ زمین بدلے گی’ یوں یہ آسمان بدلے گا ۔ عزیزانِ من!  زندگی کا اعتبار نہیں ‘  میرا ایمان ہے’ قرآن کی رو سے’ اس کرۂ ارض پہ یہ نظام قائم ہوگا’ یہ زمین بدلے گی’ یہ آسمان بدلے گا’ یہاں بدلے گا ۔ اور پھر اس کے بعد یہ جو بڑے بڑے بنے پھرتے ہیں وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ (14:49)  کیا نقشہ کھینچا ہوا ہے!  یہ بڑے بڑے فراعنۂ دہر اور نماریدِ عصر بنے پھرتے ہیں’ تُو دیکھے گا ان کو’ ہتھکڑیوں کو جکڑے ہوئے چلے آئیں گے ‘  اکیلا اکیلا نہیں’ ایک کی ہتھکڑی دوسرے کے ساتھ’ دوسرے کی تیسرے کے ساتھ ‘  یہاں بھی اکٹھے تھے’ آؤ جناب! پوری کی پوری کابینہ چلی آ رہی ہے۔ مُّقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ (14:49) او بھئی!  فِي الْأَصْفَادِ (14:49) ٹھیک ہے ‘  نہیں!  ایک تو اکیلا مجرم آتا ہے’ ہتھکڑی میں جکڑا ہوا ‘  پورے کا پورا گروہ سارے کا سارا ڈاکوؤں کا’ وہ ان کو اکٹھی ہتھکڑیاں مارا کرتے ہیں’ ایک کے ساتھ دوسری ہوتی ہے ۔ کہتا ہے یوں کیفیت ہوگی تمہاری ۔ سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ (14:50) بڑی بڑی زرہیں حفاظت کے لیے پہن رکھی ہیں’ کہ کسی قسم کا کوئی تیر آئے’ تلوار آئے’ اثر ہی نہیں کرسکتے ۔ تشبیہ ملاحظہ ہو ۔ کہنے لگے یہی زرہیں ہم اتاریں گے نہیں ‘  ان کی کیفیت یہ ہوگی’ کہ ان کی آتشِ دروں سے یہ پگھل کر یوں چپک جائیں گی’ جیسے تارکول چپک جاتا ہے’ انسان کے بدن کے ساتھ ۔ ہم یہ اتاریں گے نہیں ‘  ان کے اندر بھڑکنے والی آگ سے یہ زرہیں یوں پگھل جائیں گی’ اور اس کے بعد یوں چپک جائیں گی’ جیسے پگھلا ہوا تارکول چپک جاتا ہے ۔ آجکل وہ ایک نیا بم نکلا ہے’ وہ جو کہتے ہیں تارکول کی طرح چپک جاتا ہے ۔ یہ ہے قرآن نے جو یہاں قَطِرَانٍ کہا ہے ۔ یوں خود تمہاری اپنی زرہیں جو ہیں’ یہی اس طرح سے پگھل کے چپک جائیں گی ۔ میں کہتا ہوں یہ عذاب کی شکل ملاحظہ فرماؤ!  تارکول پگھلا ہوا جو کسی کے اوپر چپک جائے’ پوچھو نہیں اس پہ کیا ہو ۔ کوئی مداوا اس کا ‘  کوئی حفاظت کا سامان اس سے ہوسکتا ہے؟  کہنے لگا تمہاری اپنی خرابی ہے’ بڑی بڑی زرہیں تم نے بنا رکھی تھیں وُجُوهَهُمُ النَّارُ (14:50) کہتا ہے زرہیں تو یہاں تک ہوتی ہیں’ یہ تو سارا کچھ پگھل جائے گا’ چلو جی!  چہرے بچ جائیں گے ۔ کہنے لگا اس سے جو شعلے اٹھیں گے’ اس سے چہرے جھلس جائیں گے ۔ بھئی یہ کیوں ہوگا ‘  یہی کچھ تم جو آج کر رہے ہو’ یہ اس لیے ہوگا’ کہ خدا کے ہاتھ میں اب قوت آگئی ہے ‘  خدا والوں کے ہاتھ میں قوت آگئی ہے’ تو جو کچھ تم کیا کرتے تھے’ وہی کچھ یہ کریں گے ۔ کہا  لِيَجْزِيَ اللَّـهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ (14:51) یہ اس لیے ہے تاکہ خدا کا قانون ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلا دیدے ۔ یہ کسی کے خلاف ظلم نہیں ہوگا ‘  استبداد نہیں ہوگا ۔ تم نے جو کیا تھا اس کا انتقام ہے ۔ جو طاقت میں آتا ہے’ اس سے پہلے والے جو ہوتے ہیں’ وہ پوچھو نہیں’ ان کے ساتھ کیا کچھ کر رہا ہوتا ہے ‘  یہ اس لیے نہیں ۔ لِيَجْزِيَ اللَّـهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (14:51) یہی ہوگا’ بہت تیز ہیں ہم حساب کرنے میں ‘  حساب کے مطابق ہوگا ۔ لِيَجْزِيَ اللَّـهُ جزا تو اس کے معنی ہیں’ جو عمل کے اندر جو اس کا نتیجہ پوشیدہ ہوتا ہے ۔ یہ باہر سے ہم نہیں کوئی تمہیں سزا دیں گے’ تمہارے اعمال خود یہ کچھ بن جائیں گے ۔ تمہاری تہذیب اپنے ہاتھوں سے آپ ہی خودکشی کرے گی ۔ عزیزانِ من!  یہ سب کچھ کہنے کے بعد ‘  سنیے اور جھوم جائیے  هَـٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ (14:52) بَلَاغ کا لفظ جو آیا ہے’ بڑا جامع لفظ ہے ۔ یہاں سے یہ ’’تبلیغ‘‘ کا لفظ ہے’ یہاں سے ’’بلغ‘‘ کا لفظ ہے ۔ بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ اس کے لفظی معنی تو ہیں پہنچا دینے والے ‘  کیا کیا بڑی چیز اس کے اندر ہے’ یعنی یہ تمام تذکار اس لیے ہیں’ کہ جن کو اگر انسان نگاہوں کے سامنے رکھے’ تو یہ چیزیں انسانیت کو اس کی منزل تک پہنچانے کے لیے کافی ہوجائیں گی ۔ بلاغ اس معنی میں بھی آجاتا ہے ۔ بلاغ اگر تبلیغ کے معنی میں ہیں’ بڑی عظیم چیز ہے ۔ جی! اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں  ’’ کلمہ پڑھ صحیح نہیں ہیگا’ ل تے زبر ہیگی’ اے زیر نئیں ہیگی’ ایہدے تے مد ہیگی’ اے شد نئیں ہیگی ‘‘  یہ کچھ تبلیغ ہو رہی ہوتی ہے ۔ عربوں کے ہاں پانی کی تو بڑی کمی ہوتی تھی’ صحراؤں کا سفر ہوتا تھا ۔ کہیں کہیں نخلستانوں میں انہوں نے کنویں کھود رکھے ہوتے تھے ۔ ہمارے ہاں بھی عام طور پہ ان علاقوں میں جہاں نہریں ابھی نہیں گئی تھیں’ کنوؤں کے پانی گرمیوں میں خشک ہوکے نیچے ہوجاتے تھے’ تو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا’ کہ وہ کونسا کنواں ہے جس میں اتنا پانی نیچے ہوجائے گا ۔ کنوؤں کے اوپر انہوں نے یہ ڈول اور رسیاں تو رکھی ہوئی ہوتی تھیں’ لیکن وہ تو ایک ماپ کے مطابق ہوتی تھیں ۔ یہ جو آپ نے دیکھا ہے عرب اپنے سر کے اوپر وہ رسی لپیٹ لیتے ہیں’ تو اب تو یہ ایسے نظر آتا ہے’ جیسے وہ سر کو باندھا ہوا ہے’ کہ کہیں بھاگ نہ جائے ۔ یہ بڑے کام کی چیز ہوتی تھی’ یہ ایک لمبی سی رسی لپیٹ رکھتے تھے’ کہ جب وہاں گئے اور کنویں میں دیکھا’ کہ وہاں کا جو ڈول ہے’ وہ وہاں پہنچتا نہیں ہے’ تو یہ اپنی رسی اس کے ساتھ باندھتے تھے’ کہ جو کمی رہ گئی ہے پانی تک پہنچنے میں’ وہ کمی پوری ہوجائے’ اور وہ ڈول پانی تک پہنچ جائے’ اس عمل کو ’’تبلیغ‘‘ کہتے تھے ۔ کسی شخص میں بات تک پہنچنے کی جو کمی رہ گئی ہے’ اپنی رسی سے وہ کمی اس کی پوری کر دی جائے’ اسے ’’تبلیغ‘‘ کہتے ہیں ۔ ’’ ڈول گز تے تہاڈی اپنی ہونی چاہیدی ہیگی اے ‘‘  وہ جو اس میں کمی رہ گئی ہے ۔ عزیزانِ من !  یہ قوم بلا تھی ۔ هَـٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ (14:52) ٹھیک ہے’ عقل و فکر کی رو سے بھی انسان پہنچنا چاہتا ہے’ لیکن ایسے حقائق بھی تو ہیں’ کہ جو وہ جو عام ان کے ہاں کی ہاں لج اور ڈول کی طوالت ہے’ عقل و فکر کی حد جو ہے’ اس سے گہرے چلے جاتے ہیں’ تو اس میں پورا کرنے کے لیے’ ہم نے یہ ساتھ ایک رسی دیدی ہوئی ہے’ کہ اسے اس کے ساتھ باندھ لو’ تمہارا ڈول پانی تک پہنچ جائے گا هَـٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ (14:52) ’’عزیزانِ من!  جناں کول اپنی لج رسی نئیں ہیگی’ اوہناں نوں اے بلاغ نے کی کم دینا‘‘ ۔ بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ (14:52) اور تاکہ اس کے ذریعے سے تو ان کو آگاہ کردو’ کہ یوں خطرہ آنے والا ہے’ یا راستے میں اس قسم کے کنویں آئیں گے’ جن میں ممکن ہے’ پانی تک پہنچنے کے لیے وہاں کی رسی کافی نہ ہو’ ساتھ ایک رسی رکھ لو ۔ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ (14:52) تاکہ یہ معلوم ہوجائے’ کہ کہنے والا وہ صاحبِ اقتدار ہے’ کہ جس کے سوا کوئی صاحبِ اقتدار نہیں ہے ۔ تاکہ ان کو معلوم ہوجائے وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (14:52) انہیں بھی’ اور جو جو بھی اربابِ عقل و بصیرت دنیا میں بستے ہیں ۔ الْأَلْبَابِ ‘  لبِ لباب جس کو عقل کا کہتے ہیں ۔ جو جو جہاں جہاں بھی اربابِ علم و بصیرت و فہم و تفکر و تدبر و شعور بستے ہیں’ ان کے سامنے واضح طور پر یہ حقیقت آجائے’ کہ اس روش کا نتیجہ ہوگا’ اُس روش کا نتیجہ یہ ہوگا ۔

      عزیزانِ من! سورۃ ابراھیم آج ختم ہوگئی وقت بھی ختم ہو رہا ہے ۔ آئندہ اتوار کو ہم سورۃ الحجر شروع کریں گے 15  ویں سورۃ ۔

      بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ    الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُّبِينٍ (15:1) خدائے علیم و رحیم کا یہ فرمان ہے’ کہ یہ تو ایک ضابطۂ قوانین کی آیات ہیں’ دفعات ہیں’ آرٹیکلز ہیں’ جو تمہارے سامنے پیش کی چلی جا رہی ہیں ۔ اور جو بات پیچھے چلی آ رہی تھی’ کہ ان سے کہہ دیجیے اس زعمِ باطل میں مبتلا نہ رہیں’ کہ یہ نہیں ہوگا  رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ (15:2) یہ آئندہ اتوار کو ہم لیں گے ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

|…|…|


Parwez-Ibrahim-24-to-37

 بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

درسِ قرآنِ حکیم ازمفکر قرآن علامہ غلام احمد پرویزؒ

چوتھا باب:  سورۃ ابراھیم (14) آیات( 24 تا 37 )

عزیزانِ من!  آج دسمبر 1974 ء کی پہلی تاریخ ہے اور درسِ قرآنِ کریم کا آغاز سورۃ ابراھیم کی 24  ویں آیت سے ہو رہا ہے:(14:24)  ۔

سابقہ آیات میں زندگی کے دو گوشے سامنے آئے تھے’  جو ایک دوسرے سے متضاد تھے ۔ ایک اہلِ جہنم کا گوشہ’  اور دوسرا اہلِ جنت کا گوشہ ۔ ان کی کیفیات اور انداز زندگی کا وہ جتنا بھی سامنے آیا ’اب اس کے بعد قرآن یہ بتاتا ہے’ کہ ان دونوں کی بنیاد کیا ہوتی ہے؟  اصل کیا ہوتی ہے؟ وہ بیج کیا ہوتے ہیں ؟ اور یہ وہ چیز ہے جس کی اہمیت اس دور میں نمایاں طور پر سامنے آتی ہے ۔ جب یہ لوگوں نے ‘  دانشوروں نے ‘  قوموں نے پھر کہنا شروع کیا ہے’ کہ اصل اور بنیاد زندگی کے نظریہ پر ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے یہ چیز تھی’  کہ بہرحال زندگی گزارنی ہے ۔ کسی نے قوت حاصل کرلی ‘  کسی نے دولت حاصل کرلی ‘  کسی نے اقتدار حاصل کرلیا ۔ قومیں یورش کرکے آگئیں ‘ دوسری قومیں ان کا مقابلہ نہ کرسکیں’  وہ تباہ ہوگئیں ۔ لیکن اب زمانے کے تجربے کے بعد آہستہ آہستہ انسان اس چیز پہ پہنچا ہے’  کہ یہ ساری چیزیں جتنی ہمیں اوپر نظر آتی ہیں’ یہ نتیجہ ہوتی ہیں کسی دوسری چیز کا ۔ اور وہ دوسری چیز ہے’ اصل اور اساس اور بنیاد’ اور وہ ہے نظریۂ زندگی جسے آج کل کہا جاتا ہے ۔ وہ بنیاد ہوتی ہے’  جس پہ یہ عمارت اٹھتی ہے ۔ یہ نظریہ جو ہے ہمارے دور میں اس کے لیے لفظ’  اگرچہ یہ ہمارے ہاں نظریہ کہہ دیا گیا ہے’  یہ درحقیقت ISM   ہوتی ہے۔ ان کے پاس چونکہ اس کے لیے اور کوئی لفظ نہیں تھا’ اس لیے انہوں نے اس کو ISM   سے تعبیر کیا ہے ۔ ایک تو چیز ہے مثلاً Social System ‘وہ تو ہے نظام سوشل ۔ اور ایک ہے Socialism  ‘یہ ہے نظریہ ‘  ایک تصور زندگی کا ‘  ایک بنیاد ۔ اور اسے قرآن کی اصطلاح میں کلمہ کہتے ہیں ۔ یہ جو ہمارے ہاں اب آگئے’ پہلے کلمہ طیبہ یہ عام تھا’ اور اس کے بعد پھر چھ کلمے ۔ انہی میں کچھ الفاظ کا اضافہ کیا ‘  رد و بدل کیا ‘  کلمہ ۔ تو آپ دیکھیے کہ یہ اتنی بنیادی چیز’ جب یہی دین سے نیچے اتر کے مذہب میں آگئی ہے’ تو اس کلمہ کا کوئی خاص اثر آپ کے اوپر ہوتا ہے ؟  پڑھ کلمہ ‘  بس وہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللَّہِ بس ختم کلمہ ۔ یعنی اب کلمہ جو ہے’ اس کا مصرف یہ رہ گیا ہے’ کہ اچھا بھئی!  یہ ذرا سی یہاں تھوڑی سی کثافت لگ گئی’ یہ برتن پلید ہوگیا’ کیا کیا جائے ؟    اس کو تین دفعہ دھویا جائے کلمہ پڑھ کے دھویا جائے ۔ غور کیجیے کہ پھر زندگی کے نہج اور تصور بدلنے سے’ خود الفاظ کا مفہوم کیسے بدل جاتا ہے ۔ کہیے کہ کبھی بھی جب ہم کہتے ہیں کلمۂ طیبہ’ اور ٹھیک ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ ‘  کبھی آپ کے قلب میں کوئی ارتعاش ‘  آپ کی روح میں کسی قسم کا کوئی خروش اس سے پیدا ہوتا ہے ‘  کوئی اثر آپ کے ذہن کے اوپر ’آپ کے قلب کے اوپر ہوتا ہے؟  چند الفاظ ہیں جنہیں ہم زبان سے دہرا لیتے ہیں ۔ اور وہ بھی اب ایسے غیر شعوری طور پر دہرائے جاتے ہیں’ کہ ان کا کچھ اردو میں مفہوم یا معنی بھی ذہن میں نہیں آتے ۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ ۔ پہلا کلمہ تو یہی ہوتا ہے’ جو روز ہوتا ہے’ پڑھ کلمہ’ یا وہی پاک کرنے کے لیے کلمہ ۔ اور دوسرا کلمہ ہے’ وہ جو ( معاذاللہ )  بڑا ہی ڈراؤنا ہوتا ہے’ کلمۂ شہادت ‘  وہ جو جنازے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ۔ یعنی اب کلمہ کا مفہوم تو کچھ ہمارے ذہن میں ہے ہی نہیں ‘  الفاظ ہیں اور الفاظ کا استعمال اس طرح سے ہو رہا ہے ۔ اور یہ حقیقت میں وہ بیج ہوتا ہے’ جس سے کوئی درخت اگتا ہے ۔ اب ذہن میں آئی کہ بیج کی اہمیت کتنی ہوتی ہے ۔ کسان اس چیز کو ڈھونڈتا پھرتا ہے’ کہ صاحب !  وہ صحیح بیج کہیں سے مل جانا چاہیے ۔ وہاں سے بیج منگایا ہے فلاں چیز کا ‘  یہ اس نے اچھا پھل نہیں دیا’ وہ کہتا ہے اس کے بیج میں نقص تھا ۔ بیج ہی تو اصل ہے ۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ جسے ہم بیج کہتے ہیں کسی چیز کا’ اسے کلمہ کہا جاتا ہے ۔ اصل شے ہی نظریۂ زندگی ہے ۔ یہ چیز کہ اس کو ہمارے ہاں تھیوری کہتے ہیں یعنی ان کے ہاں بھی یہ صورت ہے’ زبان جو ہے’ وہ کسی ایک ہی زبان کے ساتھ یہ نہیں’ ہر زبان کے ساتھ یہی بیتتی ہے ۔ یہ  ’’تھی اوری‘‘  جو تھا حقیقت میں اٹیلین کے اندر  ’’تھی‘‘  ان کے ہاں بھی خدا کو کہتے ہیں ۔ یہ THE’’تھی‘‘  یہ تھیالوجی میں تو یہ بات رہ گئی’  تھیوری میں یہ بات نہ رہی آ کر ۔ وہ بھی ہمارے ہاں کا کلمہ ہی بن گیا ۔ حتیٰ کہ تھیوری جو ہے اب ان کے ہاں’ وہ کوئی چیز جو محض لفظوں میں ہو’ وہاں تک اسے تھیوری کہتے ہیں’ اور جب وہ تھیوری پریکٹس میں آجاتی ہے’ تو وہ پھر پریکٹس ہوجاتی ہے ۔ قرآن نے بھی یہ دو لفظ استعمال کیے ہیں ۔ ایک تو کلمہ ہے’ یا کلمات اس کی جمع بنا لی قرآن نے ۔ یہ تو ہے) Law in theory قانون الفاظ کے اندر ) ۔ اور جب یہی تھیوری یا نظریہ یا Law , in practice آجاتا ہے ‘  عمل میں آتا ہے’ تو اسے سنت اللہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں دونوں ہی چیزیں آئی ہیں  لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ (10:64) اور   وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا (33:62)۔ یہ جو نہجِ زندگی ہم بتا رہے ہیں اس کے نہ تو بیج میں تبدیلی ہوگی’  اور نہ ہی پھر اس پودے اور اس کے پھل میں کچھ تبدیلی آپ کو نظر آئے گی ۔ یہ تھا کلمہ جو بیج ہے’ اور وہ تھا اس کا پھل جو سنت کے اندر آپ کے سامنے آیا ہے ۔ اس کلمہ پر جب عمل کیا جائے تو وہ جو محسوس چیز سامنے آجاتی ہے’ اور اس کے نتائج سامنے آتے ہیں وہ سنت کہلاتی ہے’ اور جب یہ چیز تھیوری کے اندر ابھی ہوتی ہے’ تو یہ کلمہ کہلاتا ہے ۔ عزیزانِ من!  یہ تھا کلمۂ طیبہ ۔ اور پھر طیب کے معنی پاک کیا’ اور پھر وہ ٹھیک کیا’ پھر یہ پانی ڈال کے پاک کرنے کے لیے کلمے کا استعمال  ’’اینوں ذرا پاک کردے ۔ اے گھراں دے وچ ہوندا اے ۔ میں گھراں دے وچ جدوں کینا آں ساہڈے پرانے گھراں اچ ہجے ہوندا ہیگا اے ‘  خیر نال نویں گھراں دے وچ اے وی گل تر گئی ہوئی ہیگی وے ۔ نی کاکی پانڈا دھوتا ای ؟  جی ہاں اماں دھو لیا ۔ او پاک وی کیتا ای ؟ ‘‘  یہ الفاظ ہمارے ہاں ابھی تھے اور  ’’ پاک کرن دے معنی ہوندے سن’ کلمہ ‘‘  طیب کے معنی ہم نے پاک کیا ۔ تو ایک چیز تو ہوئی برتن صاف کیا’ اور جو اگلی بات ہوئی برتن پاک کیا ۔ اس میں ماں نے یہ کہا ’بیٹی نے کلمہ پڑھا’ ذہن ایک سکون تسکین پیدا ہوئی’ کہ ہم نے پاک بھی کیا ۔


      طیب کے تو معنی ہی کچھ اور تھے ۔ طیب کے معنی ہیں وہ بیج جو پھل دیدے اپنا ۔ خبیث کے معنی ہیں وہ بیج اور درخت جو پھل دار نہ ہو ۔ شکلیں دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہیں ۔ اب معلوم ہوا’ کہ کلمۂ طیبہ کے معنی کیا ہوئے ۔ وہ نظریۂ زندگی کہ جب اس کے ساتھ اعمالِ صالح ملیں’ تو وہ اپنا موعودہ پھل تمہیں دیدے ‘  یہ ہوا کلمۂ طیبہ ۔ زندگی کے دو گوشے سامنے آئے تھے جو میں نے ابھی عرض کیے ہیں ‘  ایک اہلِ جہنم کا جس میں ہم گزر رہے ہیں ‘  ایک اہلِ جنت کا’  کہ جس کی باتیں تو ہم سنتے ہیں’ دیکھنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی ۔ قرآن نے دونوں گوشوں کو سامنے لانے کے بعد بتایا یہ’ کہ ان کا دارومدار درحقیقت کلمات کے اوپر ہے ‘  نظریاتِ زندگی کے اوپر ہے ‘  بنیاد کے اوپر ہے ‘  بیجوں کے اوپر ہے ۔ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا كَلِمَةً (14:24) أَلَمْ تَرَ وہ باتیں جو تھیں غیر محسوس سی ہو رہی تھیں غیر مرئی سی ہو رہی تھیں ۔ کہا تم نے دیکھا ہے کہ خدا اس بات کو مثال کے ذریعے کیسے سمجھاتا ہے ۔ اور جب بھی قرآن اپنے ہاں کوئی تجریدی حقائق لاتا ہے ‘  غیر مرئی ‘  جو نظر آنے والے نہ ہوں ‘Abstract ‘اس کے بعد ان کو ہمیشہ مثال کے ذریعے سمجھاتا ہے ۔ اور مثال تشبیہ  ہمیشہ محسوس کی دی جاتی ہے ۔ بات نکھر کر سامنے آتی ہے ۔ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّـهُ (14:24)کس طرح خدا نے مثال دے کے بات سمجھائی  كَلِمَةً طَيِّبَةً  کی مثال  كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ (14:24)  ایک پھل دار درخت اور پھل بھی نہایت خوشگوار ‘  بطیب خاطر جسے ہم کہتے ہیں ۔ اب آگئی بات سامنے ۔ ایک درخت جو نہایت عمدہ ‘  خوشگوار پھل دینے والا ہو ۔ اب اس درخت کی خصوصیات ملاحظہ فرمایے ۔ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) اس کی جڑیں تو پاتال کے اندر گئی ہوئی ’ مضبوط ہوں اور اس کی شاخیں آسمان کو چھو رہی ہوں ۔ قرآن دو لفظوں میں کیا بات کہہ گیا ہے!  کوئی درخت اگ ہی نہیں سکتا’ تاوقتیکہ اس کی جڑیں مضبوط ‘  زمین کے اندر نہ ہوں ۔ وہ پھل ہی نہیں دے سکتا’ تاوقتیکہ اس کی شاخیں فضا میں نہ پھیلی ہوئی ہوں۔ اور زندگی کے یہی دونوں گوشے ہیں کہ جن کا باہمی امتزاج اگر ہو تو پھر زندگی پھل دار بنتی ہے ’ یعنی اس مادی دنیا کے اندر جڑیں مضبوط ہوں قوم کی’ اور اپنے نظریات آسمانی رہنمائی سے لے’ جب زندگی اپنے خوشگوار پھل دیتی ہے ۔ دونوں میں سے ایک چیز بھی اگر کم رہ گئی ہے’  تو زندگی کا درخت مرجھا کے رہ جائے گا’ یا کوئی جھکڑ آئے گا’ تو الٹ کے رہ جائے گا ۔ أَصْلُهَا ثَابِتٌ (14:24)۔ قوم کی زندگی کے لیے پہلی چیز یہ ہے’ جو قرآن نے کہا ہے  تمکن فی الارض ’ اس دنیاوی ‘  مادی زندگی کے اندر تمکن ‘  گڑا ہوا ہو وہ بالکل ۔ جب تک اس دنیاوی یا مادی زندگی کا تمکن حاصل نہ ہو’ یہ کلمات صحیح پھل دے ہی نہیں سکتے ۔ اگر یہ تمکن حاصل نہ ہو’  تو دین مذہب پہ آجاتا ہے’ تو پھر یہ کلمے  ’’پانڈے پاک کرن واسطے رہ جاندے ہیگے نیں ‘‘   بس پھر ان کا مصرف اتنا ہی باقی رہ جاتا ہے ۔ کیوں ہمارے گھروں سے یہ الفاظ اٹھ گئے ؟  کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تھا ۔ ایک یونہی متواتر رسم چلی آ رہی تھی’ جو بے معنی ہوگئی’ کیونکہ اس نے اپنا نتیجہ کوئی نہ دیا ۔ آئندہ آنے والی جنریشن نے وہ بھی چھوڑ دیا ۔ اگر کہیں یہ گھر کے اندر اگتا‘  گھر کے اندر جتنے بھی پودے اگتے ہیں’ پھول دیں ’پھل دیں’ اس کو تو نہیں بچے توڑتے یا اکھیڑتے ۔ یہ کلمۂ طیبہ کیوں ہمارے گھروں سے مٹ گیا ؟  ان کے سامنے کوئی محسوس چیز نہیں آ رہی تھی ۔ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) عزیزانِ من! اسلام نام ہی اس چیز کا ہے أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) اس امتزاج کا نام ہے جسے آپ اسلام کہتے ہیں ۔ اس دنیاوی زندگی میں اس مادی زندگی میں’ Material Prosperity جسے آپ کہتے ہیں اس کے اندر اتنا بڑا تمکن’ کہ آپ کی قوم کی جڑیں مضبوط ہوں مادہ کے اندر۔ عزیزانِ من!  دو لفظ یا دو ٹکڑے جس میں قرآنِ کریم ایک تو باطل کے تمام نظریاتِ زندگی کی تردید کر گیا:  پہلا نظریۂ زندگی مذہب کا’ کہ مادہ یا Matter یا Physical Life (مادی زندگی ) ‘ اس دنیا کے متاع ‘  ساری قابلِ نفرت’   ترک کر دینے کے قابل’ چھوڑ دینے کے قابل’ ناپاک’ پیچھا چھڑاؤ’ لاشیں’ جس کے گرد کتے منڈلا رہے ہیں’ بھونک رہے ہیں ۔ یہ نظریاتِ زندگی آپ کے ہاں ہر مذہب میں ملیں گے ۔ قرآن نے جب کہا ہے کہ  أَصْلُهَا ثَابِتٌ تو پہلی چیز یہ کہی’ کہ کوئی درخت پھل ہی نہیں دے سکتا ’تاوقتیکہ اس مٹی کے اندر اس کے پاؤں نہ جمے ہوئے ہوں ۔ مادہ جسے آپ کہتے ہیں’ وہ تو اتنی اہم اور ضروری چیز ہے ۔ پہلی چیز تمکن فی الارض ہے ۔ اب مذہب کی دنیا میں’ خواہ وہ دھرم اور Religion کی زندگی ہو’ یا رہبانیت اور تصوف کی زندگی ہو’  دونوں کو قرآن نے کاٹ کے رکھ دیا’  جب کہا کہ جب تک  أَصْلُهَا ثَابِتٌ نہیں زندگی کا’   وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) ہو نہیں سکتا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ تشبیہ تشبیہ میں ہی بات کتنی عجیب کہہ گیا ۔ بہت اچھا جی!  أَصْلُهَا ثَابِتٌ ہونا چاہیے ‘  اس مادی زندگی کے اندر پاؤں گڑے ہوئے ہونے چاہئیں ‘  اس کا کنٹرول ہونا چاہیے ‘  تمکن ہونا چاہیے ‘  اس کی Prosperity ہونی چاہیے ۔ کیا یہی ہے اصلِ حیات؟ اس نے کہا کہ ذرا سوچو تو سہی اگر یہ مادہ جو ہے’ یہی اس بیج کے اوپر یہ مٹی جوہے اتنی بڑی ڈھیلوں کی طرح اس کے اوپر آجائے’ تو اگے گا اس میں سے کچھ؟ اس کے لیے وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) بھی تو ہونا ضروری ہے۔ یہ تعلق جو سما کے ساتھ ہے یہ ہے جسے آپ آسمانی راہنمائی کہتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزوں کا امتزاج ہے’ کہ جس کا نام اسلام یا قرآن کی زندگی ہے ۔ پہلی چیز جو ہے’ کہ یہ وہی رہبانیت وغیرہ ’یا  مذہب کی دنیا ‘  اس میں یہ کہ صاحب!  یہ تو ترک کردینے کے قابل’ بلکہ نفرت کے قابل’  اور وہ گیان دھیان کی زندگی ‘  قربِ خداوندی کی زندگی ‘  روحانیت کی زندگی ’ یعنی وہ شاخیں آسمان میں  پھیلا رہے ہیں بغیر جڑوں کے زمین میں گاڑنے کے ۔ فریبِ نفس ہے ۔ وہ ٹھیک کہہ گیا ہے’ اور وہ تو کہتا ہی ہے جب قرآن پہ اس کی نگاہ ہوتی ہے کہ


اگر نہ سہل ہوں تجھ پہ زمیں کے ہنگامے


بری ہے مستیٔ  اندیشہ ہائے افلاکی


بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ذہنی لذت تو آپ کو مل جاتی ہے ۔ عزیزانِ من!  شاعری ہے ‘  بھوک نہیں اس سے مٹتی ہے ۔ بری ہے مستیٔ اندیشہ ہائے افلاکی۔ خواہ وہ فلسفیانہ محض ادراک اور Intellect  کی مستیٔ اندیشہ ہائے افلاکی ہو’ یا وہ آپ کی نام نہاد روحانیت کی مستی ہو’  کچھ بھی ہو۔ اگرنہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے ۔ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (24:55)۔ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ (22:41) دیکھ رہے ہیں قرآن! مومن کی زندگی ‘  قرآن کے مطابق زندگی ‘  خدا والوں کی زندگی ۔ بات کہاں سے وہ شروع کرتا ہے!  فِي الْأَرْضِ (22:41) زمین کے اندر سے ۔ کوئی بیج درخت بن ہی نہیں سکتا’ اگر زمین کے اندر اس کی جڑیں مضبوط نہ ہوں ۔ لیکن اس کے ساتھ یہی نہیں’ کہ زندگی یہی Physical زندگی ہے’ یہی مادی زندگی ہے’ یہی طبعی زندگی ہے’ یہی زمین کی زندگی ہے ۔ اس درخت کے لیے زمین سے باہر نکل کر’ آسمانی سورج کی شعاعوں سے حرارت اور روشنی لینا ‘  اس فضا کی ہوا کے اندر سے غذا حاصل کرنا ‘  اس فضا کے اندر جھومنا جھولنے جھلانا ‘  بڑھتے چلے جانا ‘  پھیلتے چلے جانا ‘  یہ بھی تو درخت کے لیے ضروری ہے ۔ قرآن کیا مثال دے جاتا ہے! ایک درخت کی مثال سے ساری بات واضح کرگیا ۔ زمین میں تمکن اور آسمان کی طرف نگاہیں ‘  وہاں سے یہ حرارت ‘  وہاں سے یہ روشنی ‘  وہاں سے یہ ہوا یعنی اقدارِ سماوی سے اپنے لیے زندگی کی روشنی اور ذریعۂ حیات وہاں سے حاصل کرے’ اور زمین کے اندر پاؤں گاڑ کر رکھے ۔ تمکن فی الارض ‘  آسمانی اقدار کی روشنی میں یہ ہوگئی ’ اسلام کی زندگی’ یہ ہوگئی قرآن کی زندگی ۔ اور متعدد مقامات میں قرآن نے اس کو اور وضاحت سے بیان کیا ہے ۔ کبھی ذہن میں یہ بات نہیں آتی تھی’ کہ یہ قرآن اس قسم کی چیزیں جو کہہ جاتا ہے’ مفہوم کیا ہوتا ہے ۔ میں نے جیسا عرض کیا تھا تصریفِ آیات سے ملا کے دیکھیے’ مفہوم سامنے آتا ہے ۔ یہاں کہا ہے کہ  أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) تو الْأَرْضِ یہاں لی’ اور السَّمَاءِ لیا’ یہ دونوں زندگی کے گوشے لیے ایک مادی زندگی اس زمین کا تمکن ‘  دوسرے سماوی اقدار اس کے ساتھ جو ہوں ۔ اور کہا کہ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَـٰهٌ (43:84)  زندگی یہ ہے کہ اس زمین کی زندگی کے اندر بھی’ اسی کو صاحبِ اقتدار سمجھو’ اور فضا میں بھی اسی کو صاحبِ اقتدار سمجھو ۔ یہ کہنے کی ضرورت کیا تھی؟  حالانکہ ساتھ ہی اس کے یہ پڑا ہوا ہے کہ  وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا (43:85)  اس کی بادشاہت ‘  اس کی مملکت تو پھیلی ہوئی ہے ارض پہ بھی ‘  سما میں بھی ‘  اس کے درمیان میں بھی ۔ کہا :  تمہارے لیے یہ ضروری ہے’ یہ تمہارا ایمان ہونا چاہیے ‘  کیا ایمان؟   وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَـٰهٌ (43:84)   زمین کی زندگی میں بھی وہی صاحبِ اقتدار ‘  سماوی زندگی میں بھی وہی صاحبِ اقتدار ۔ مذہب کی دنیا کے اندر خدا اوپر اوپر کا خدا ہوتا ہے’  زمین کے ہنگاموں سے اس کو کوئی تعلق نہیں ہوتا’  یہ تو ہوتے ہی قابلِ نفرت ہیں ۔ طبعی زندگی کے اندر مادی نظریۂ حیات کے اندر‘ یہ صرف زمین کے معاملات جو ہیں‘ انہی کا تعلق زندگی سے گنا جاتا ہے‘ یہیں ایک الہ کی ضرورت پڑتی ہے‘ ساتھ کوئی دوسرا الہ نہیں ملایا جاتا ۔ یا ثنویت کی شرک کی زندگی ہوتی ہے‘  کہ یہاں اور الہ‘ وہاں کا کوئی اور الہ ۔ یہ ہے سیکولر نظامِ حیات کہ دنیاوی معاملات کے لیے مملکت یا سلطنت‘ اور سماوی معاملات کے لیے مسجد یا گرجا ۔ کسی درخت کو ان دو حصوں میں کاٹ دیجیے‘ زمین میں اس کی جڑیں رہنے دیجیے‘ اوپر سے کاٹ کے اس کو سما کے اندر رہنے دیجیے‘ جڑیں بھی سوکھ جائیں گی شاخیں بھی مرجھا جائیں گی ۔ یہاں تو ایک ہی الہ ہونا چاہیے زمین کی زندگی کا بھی وہی الہ ‘سما کی زندگی کا بھی وہی الہ ۔ کہیے کسی درخت کو وہ پھل پھول دیدے‘ اگر اس کے ہاں آپ ایک الہ رکھیں‘ اور دوسرا الہ اس کو کاٹ دیں ۔ فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَـٰهٌ  (43:84)  یہ ہے اسلام کی زندگی ۔ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24)  کہا جب یہ کیفیت اس کی ہوجائے  تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا (14:25) یہ جو ہے درخت ‘  یہ جو ہے شجرِ حیات’ یہ تمہارے خدا کے قانون کے مطابق ہر موسم میں پھل دیے چلے جا رہے ہیں ‘  سدا بہار پھل دیے چلے جا رہے ہیں ‘  دیے جائے گا یہ پھل ۔ یہ ابھی ابھی ہم نے سورۃ الرعد میں وہی مثال پھر دیکھی مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ (13:35) ایسے درخت کہ جن کے نیچے پانی رواں ہو أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا (13:35) ان کی آسائشیں بھی خزاں نادیدہ ’ اور ان کے پھل بھی ہمیشہ رہنے والے  تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوا (13:35) قوانینِ خداوندی کے مطابق زندگی بسر کرنے والوں کی زندگی کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ یہاں وہی چیز جو تھی أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا (14:25) وہی اقبالؒ کا مشہور شعر کہ


یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند


بہار ہو کہ خزاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ


اب د یکھا یہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے معنی کیا ہوگئے’  وہی جسے ہم کلمہ کہتے ہیں ۔ وَيَضْرِبُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (14:25) کہتا ہے کہ خدا اس طرح سے مشہود مثالیں اور محسوس مثالیں دے کر بات کو سمجھاتا ہے’ تاکہ وہ اس پہ غور و فکر کریں ۔ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ (14:26) اس کے مقابلے میں وہ درخت کہ جو پھل نہیں دیا کرتے ۔ کیفیت کیا ہوتی ہے ؟  اُس درخت کی مثال تھی  أَصْلُهَا ثَابِتٌ جڑیں زمین میں گڑی ہوں ‘  یہ ہے  كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ (14:26) یوں تو وہ زمین میں ہوتا ہے’ لیکن زمین کے اوپر اوپر ہی اس کی جڑیں ہوتی ہیں ۔ کیفیت یہ کہ  مَا لَهَا مِن قَرَارٍ (14:26) ذرا  سا کوئی جھکڑ چلا ‘  تیز ہوا چلی’ اور وہ اکھڑ کے گیا ۔ درخت یہ بھی ہوتا ہے’ درخت وہ بھی ہوتا ہے ۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے’  کہ یہ مختلف نظریات یا Systems   جو ہیں’  ذرا سی بات بھی ان کی آ کے ادھر ملے’ اسلام یا قرآن کے ساتھ’ اور یہ کہتے ہیں کہ ہاں صاحب !  دیکھ لیجیے اسلامی سوشلزم یعنی شجرِ خبیثہ اور شجرِ طیبہ دونوں کا اکٹھا پیوند لگا ہوا ہے ۔ نظر آنے میں یہ بھی آپ کو درخت نظر آئے گا’ وہ بھی آپ کو درخت نظر آئے گا’ لیکن درخت اور درخت میں فرق کیا کرکے بتایا ؟  کہ وہ جس کی اصل اتنی ثابت ہیں زمانے کے تقاضوں کے جھکڑ چلتے رہیں’ وہ ہر ایک کا حریف بن کے اپنے پاؤں کے اوپر کھڑا رہے گا’ اس کے اندر لغزش نہیں آئے گی ‘  وہ زمانے کے ہر بدلتے ہوئے تقاضے کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگا’ جس درخت کی جڑیں مضبوط ہیں ۔ اور جس کی جڑیں مضبوط نہیں ہیں’ درخت تو وہ نظر آئے گا’ مساعد حالات کے اندر وہ درخت کی شکل اختیار کرے گا’ اور وہ نظر بھی آتا ہے’ لیکن جہاں نامساعدِ حالات کے تھپڑ یا جھکڑ چلے’ ایک سیکنڈ میں اکھڑ جائے گا ۔ عزیزانِ من !  کتنے ہی ISMS  اس قسم کے آئے’ کتنے ہی اکھڑ گئے’  زمانے کا ساتھ تو نہ دے سکا کوئی ۔ زمانے کے جھکڑ اور تلاطم خیزیوں کا ساتھ تو وہی درخت دے گا’  کہ جس کی جڑیں زمین کے اندر ہونگی’  جس کی شاخیں پاتال کے اوپر کھڑی ہونگی ۔ کہا اس کی کیفیت یہ ہے’ کہ درخت تو ہوتا ہے’ جڑیں پاتال میں نہیں ہوتیں’ اس لیے  وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) نہیں ہوتا’ ذرا سا جھکڑ چلا اور وہ گیا مَا لَهَا مِن قَرَارٍ  (14:26)   مثال سامنے آئی ۔ ثبات زندگی میں نہایت ضروری ہوگیا ۔ درخت کا اس مادی زندگی کے اندر مضبوط ہونا ‘  جڑیں پکڑنا نہایت ضروری ہوگیا ۔ یہ جو ثبات ہے اس کے لیے   يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا (14:27) یہ ثبات  عطا کرتا ہے خدا’ ان لوگوں کو جو اس کی صداقت پر ایمان لاتے ہیں ۔ کس چیز سے ثبات عطا کرتا ہے ؟  عزیزانِ من !  میں نے کہا تھا کہ قرآن کی رو سے کلمہ یا نظریہ یا ISM   یا بنیاد جو ہے’ نہایت اہم ہے’ اس کے بغیر نہ کوئی عمارت اٹھ سکتی ہے’ نہ کوئی درخت اگ سکتا ہے۔ جو آج سمجھ میں بات نہیں آتی’ کہ صاحب !  ایمان کی ضرورت کیا ہے ‘  نیک کام جہاں بھی کوئی کرلے بہت اچھا ہے ٹھیک ہے ۔ اور ہمارے ہاں کا یہ نوجوان طبقہ’ وہ ٹھیک ہے’ چونکہ اس کے سامنے یہ ایمان جسے ہم کہتے ہیں’ کچھ اس کا مفہوم نہیں ہوتا’ اس لیے اس کی سمجھ میں بات نہیں آتی ۔ ایمان کا ترجمہ ہوا Faith ‘  Faithکے معنی ہیں اندھا  یقین ۔ یہ اندھی بات ماننے کو تیار نہیں ہے ‘  ماننی ہی نہیں چاہیے ۔ اس لیے یہ کہتا ہے کہ صاحب !  ایک شخص خدا کو مانتا ہے’ ایک نہیں مانتا’  نیک کام دونوں ہی کرتے ہیں’ اس کے اندر فرق کیا ہے ؟  کہاں ضرورت پڑتی ہے ایمان کی؟  بات اصل میں یہ ہے’  کہ وہ بات ایمان کی ان کو بتانے والا نہیں ۔ ان سے پوچھو کہ صاحب ! ISM کی ضرورت کہیں پڑتی ہے یا نہیں ؟  کیسی ہی اچھی Welfare State کیوں نہ ہو’ وہ کہتا ہے کہ نہیں صاحب! Socialism کے اوپر جب تک اس کی بنیاد نہیں ہوگی’  یہ نظام صحیح نہیں ہوسکتا ۔ Matter   نہیں Materialism  ‘Spirit نہیں Spiritualism ۔ ان سے کہیے کہ ISM   کچھ ہے ناں زندگی کے اندر اہمیت ۔ اب وہ سمجھنے لگ گئے ہیں’  کہ ISM   کے بغیر کوئی سسٹم چل نہیں سکتا ۔ تو کہیے کہ جسے تم ISM کہہ رہے ہو’ اسے ہی عربی زبان میں ایمان کہا جاتا ہے ۔ یہ حقیقت میں Lifeism ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ  يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا (14:27)   ہم ان لوگوں کو تثبیت عطا کرتے ہیں’ زندگی کے اندر ثبات عطا کرتے ہیں ‘  کاہے سے ؟  بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (14:27)  زندگی کا ثبات قولِ ثابت کے بغیر ہو نہیں سکتا’ محکم نظریۂ حیات کے بغیر زندگی کو ثبات نصیب ہی نہیں ہوسکتا ۔ يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ  (14:27)  ۔ قولِ ثابت ہونا چاہیے ۔


Two sides of a triangle are always greater than the third.


The Sum of three angles of a triangle is equal to the two right angles.


یہ قولِ ثابت جسے وہ کہتا ہے کہ انہیں لے جائیے اور ان پہ عمل کرتے چلے جائیے قیامت تک اس پہ عمل کرتے چلے جائیے’ اس کے خلاف کبھی نہیں پاؤ گے ۔ کوئی  Triangle نہیں آپ کو نہیں ملے گی’ کہ جس کے تین اینگلز کا مجموعہ Two right anglesسے کم یا زیادہ ہوگا ۔ دو سائیڈز Triangle کی جو ہونگی’ کبھی ہو نہیں سکتا کہ ان کا مجموعہ تیسری سائیڈ سے کم رہ جائے ۔ یہ قولِ ثابت کہلاتا ہے ۔ يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا (14:27)   ثبات عطا کرتا ہے خدا’ ان لوگوں کو جو ان صداقتوں پہ یقین رکھتے ہیں ‘  قولِ ثابت کے ذریعے سے ۔ اب یہ قولِ ثابت جب تک نہ ہو’ کسی قوم کے اندر’ اس کو ثبات زندگی میں مل ہی نہیں سکتا ۔ کیوں تھپیڑے کھا رہی ہے’ ہماری کشتی اس چھبیس سال سے ؟   ساری تدبیریں کر رہے ہیں ‘  قوم کے پاس قولِ ثابت نہیں ہے ‘  ہمارے پاس غیر متبدل نظریہ حیات نہیں ہے ‘  متعین Destiny نہیں ہے’  ہمارے پاس ‘Destinationنہیں ہے ہمارے سامنے ‘  منزلِ مقصود نہیں ہے ‘  نصب العین نہیں ہے ۔ محکم ۔ یہ عارضی چیزیں نہیں ہیں’  کہ صاحب !   اس قسم کے الیکشن میں یوں ہوجائے گا’  اور اس قسم کی تدبیر کرنے سے یہ دانے آجائیں گے ‘  وہاں سے امپورٹ کرلیں گے’  روٹی ہوجائے گی ۔ یہ قولِ ثابت نہیں ہے ۔ عزیزانِ من !  قولِ ثابت تو ایک غیر متبدل نظریۂ حیات ہے ۔ وہ کہتا ہے’  ثبات آتا ہے  الَّذِينَ آمَنُوا کو بھی ’وہ جو ایمان رکھنے والے ہیں’ ان کو ثبات زندگی میں عطا ہوتا ہے  بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (14:27)  ۔ تو جب آپ دیکھیں کہ کوئی قوم باوجود تمام سعی و کاوش کے ‘  سرگردانیوں کے ‘  پریشانیوں کے ‘  کاوشوں کے پھر بھی نہیں پنپ رہی’  تو سمجھ لیجیے کہ اس کے پاس قولِ ثابت نہیں ہے۔ عزیزانِ من !  یہ ہے جسے ہم Lack (فقدان)کر رہے ہیں’ یہ ہے جس کی کمی ہے ۔


سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے


زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں


قولِ ثابت نہیں ہے اس کے پاس ۔ آپ دیکھتے ہیں وہ کہتا ہے’ ثبات عطا کرتا ہے اللہ ’اس قوم کو ‘  ایمان رکھنے والی قوم کو ثبات عطا کرتا ہے’  بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ محکم ‘  غیر متبدل نظریۂ حیات ۔ یہی جس کو ہم نے نظریۂ پاکستان کہہ کے پکارا تھا’ اور جو اب الفاظ ہمارے ہاں وہی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللَّہِ کی طرح بن کے رہ گئے ہوئے ہیں ۔ کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ نظریہ کیا تھا؟ کیا ہونا چاہیے؟  یہ تھا قولِ ثابت ۔ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ بہت اچھا جی !  روحانیت ملتی ہے اس سے ’  بقول ان کے قربِ خداوندی حاصل ہوتا ہے ’  وہاں جا کے جنت مل جائے گی ؟  یہاں دنیا بھر کی ذلت اور خواریاں ہوتی رہیں’ کوئی نہیں صاحب !  مقربینِ خداوندی کی یہ نشانیاں ہوتی ہیں یہ ہوگا ۔ یہ ثبات زندگی کا کہاں ملے گا ؟   عزیزانِ من !  سنیے  بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (14:27)   جی !   وہ تو یوں رہنے نہیں دیتا ۔ جب کہا تھا اس نے کہ  أَصْلُهَا ثَابِتٌ!  فِي الْأَرْضِ (22:41) کہا تھا تو اس کو پھر نمایاں طور پہ بتا دیا  فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (14:27) اس دنیا کی زندگی میں ثبات ملے گا’ قولِ ثابت کے ذریعے سے ۔ جو جی میں آئے کرکے دیکھ لیجیے’ قولِ ثابت نہیں ہے’  تو کبھی ثبات نہیں ہے ۔ وقتی طور کے اوپر وہ ثبات کہتا ہے’  کہ ایک ڈاکو کو بھی مال تو مل جاتا ہے راتوں رات ‘  ایک ہلاکو کو بھی ایک حملے کے اندر اقتدار مل جاتا ہے ‘  ثبات تو نہیں ہے ۔ ثبات ملتا ہے قولِ ثابت کے ذریعے سے ۔ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (14:27) اس زندگی کے اندر بھی۔ تو بس یہاں سے اتنے سے تو یہی ہوا’  کہ بس پھر ٹھیک ہے زندگی اسی دنیا کی زندگی’  کہ یہاں کے متعلق کوئی نظریۂ حیات جو مستحکم ہو’ اختیار کرلیجیے’ ثبات مل گیا ۔ یہی چاہتا ہے قرآن ؟   کہتا ہے کہ نہیں !   وَفِي الْآخِرَةِ (14:27)   لیکن یہ ثبات  فی الحیٰوۃ الدنیا مقدم ہے ۔ اسی منطق کی رو سے نظر آگیا’ کہ اگر ثبات  فی الحیٰوۃ الدنیا نہیں ہے’ تو ثبات  فی الاٰخرۃ مل نہیں سکتا ۔


وہ قوم نہیں لائقِ ہنگامۂ فردا


جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے


یہ ہے یہ جو شخص کہہ گیا تھا’  فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (14:27)  ۔ اب رہے اس کے خلاف کہنے والے جن کے پاس یہ قولِ ثابت نہیں ہے’  وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ (14:27)   ان کو ظالم کہا گیا ہے ‘  کسی شے کو اس کے صحیح مقام پہ نہ رکھنا ۔ ان کے اعمال رائیگاں جاتے ہیں ‘ ضل کے معنی ہوتا ہے رائیگاں چلے جانا ۔ اور یہ سب کچھ یونہی At Random نہیں ہو رہا ‘  اتفاقیہ طور پہ نہیں ہو رہا ‘By Chance نہیں ہے ۔ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ (14:27)   خدا کا قانونِ مشیت ہے جس کے مطابق یہ کچھ ہو رہا ہے ۔ ثبات نہیں نصیب ہوسکتا


تدبر کی فسوں سازی سے قائم رہ نہیں سکتا


جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے


ثبات نہیں نصیب ہوگا ‘  وقتی طور کے اوپر تو یہ اس قسم کی خوشگواریاں ‘  خوشحالیاں وہ مل ہی جائیں گی ۔ وہ ایسا ہی ہے’ وہ جیسے شام کے وقت شراب کے گھونٹ سے چہرے پہ سرخیاں آجاتی ہیں ۔ عزیزانِ من !   صحت کی سرخیاں اور ہوتی ہیں’ نشے کی سرخیاں اور ہوتی ہیں ۔ یہ جو شام کو سرخیاں آتی ہیں’ صبح کے خمیازے سے پوچھیے کیا کیفیت ہوتی ہے ؟  ایک ایک ہڈی ٹوٹ رہی ہوتی ہے ۔ اب قرآن کا انداز آیا ۔ مثالوں کے ذریعے سے بات واضح کی’ کہ صحیح نظریۂ حیات جو ہے’ اس پہ دارومدار ہوتا ہے ۔ اب وہ بات ہوگی کہ قولِ ثابت اگر نہیں ہے’ تو یہ چیزیں میسر آئیں گی ‘  خوشگواریاں بھی میسر آجائیں گی ‘  دولت بھی میسر آجائے گی ‘  اقتدار بھی میسر آجائے گا ۔ قوم بھی ہوگی ‘  کارواں بھی اس کا ہوگا ‘  ہوگا کیا ؟   وہ جو آیت کئی بار سامنے آئی ہے’ دہرایا کرتا ہوں ’ ہر بار کلیجہ شق ہوجایا کرتا ہے’ دل خون بن کر آنکھوں سے ٹپک پڑا کرتا ہے ۔ کس طرح بات سمجھائی ہے ؟  أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ (14:28)  آگیا قرآن تاریخ کی طرف پھر ‘  اپنا انداز جو اس کا سمجھانے کا ہے ‘  قوموں کی تاریخ کی طرف آگیا ۔ تم نے دیکھا بھی ہے انجام ان قوموں کا ؟  یہ بھی تم نے نظارہ دیکھا ہے ‘  کیا ؟  إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا (14:28) تم نے دیکھا ہے اس قوم کے کارواں کو’ کہ سالارِ کارواں جو ان کے تھے ان کے رہنما جو تھے’ انہوں نے کیا کیا؟  بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا (14:28)  خدا کی دی ہوئی ان تمام آسائشوں کو ‘ Prosperity کو’   خوشحالیوں کو ‘  نعمتوں کو انہوں نے کیا کیا ؟  كُفْرًا آپ کو معلوم ہے کفر کے معنی ہیں’ چھپا کر رکھ لینا ‘  دبا کر رکھ لینا ‘  ناقدر شناسی بھی جسے ہم کہتے ہیں ۔ نعمت کی قدر شناسی یہ ہے’ کہ جہاں ہونی چاہیے ‘  جس کے ہاں ہونی چاہیے ‘  جس کے لیے ہونی چاہیے’ یہ وہاں استعمال ہو ۔ ناقدری اور ظلم اس کا یہ ہے’ کہ ہو تو یہ سب کچھ’  لیکن کوئی شے اپنے ٹھکانے پہ نہ ہو ۔ کہا کہ یہ لوگ کہ جنہوں نے  بدلوا ۔ خدا نے اتنی آسائشیں اور خوشگواریاں دی تھیں’ انہوں نے اسے کفر سے بدل لیا ۔ اور یہ وہ کارواں سالار تھے’ قافلے کو لے جانے والے’  وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (14:28)   اور یہ کارواں سالار اپنی قوم کو اس منڈی میں جا کے انہوں نے اتارا دیدیا’ جہاں اس جنسِ کاسد کا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا’ کوئی خریدار نہیں تھا ۔ وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ اس قافلے کے اونٹوں کی رسیاں کھول دیں’ اور وہاں جا کے اتارا اس کو دیدیا ’ کہ جس منڈی میں اس جنس کا پوچھنے والا کوئی نہیں تھا ۔ تجارت کا قافلہ آئے’ کتنی منزلیں طے کرکے وہ بے چارہ آتا ہے’ کتنی مشقتوں کے بعد آتا ہے’ مال بھی اس کے اوپر لدا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ کسی ایسی منڈی میں آ کر اگر ان کارواں سالاروں نے اس کو اتارا دیدیا ’ کہ جہاں اس مال کا پوچھنے والا ہی کوئی نہیں ہے ۔ میں کہتا ہوں اس سے زیادہ اور تضاد کیا ہوگا ؟ جہاں اس جنسِ کاسد کا پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ کہا ہم نے چار آیتیں پہلے تمہیں بتایا ہے’ کہ جہنم کی زندگی کیا ہوتی ہے ؟ تمہیں بتاؤں کیا ہوتی ہے ؟  جَهَنَّمَ (14:29)   یہ ہوتی ہے’ جہنم ‘  اسے کہتے ہیں’ جہنم ‘  کوئی مُل ہی نہ پڑے اس جنسِ کاسد کا ۔ يَصْلَوْنَهَا (14:29)   جہنم جس میں دھکیل دی گئی یہ قوم جو تھی ۔ وَبِئْسَ الْقَرَارُ (14:29)   منزل ملنے کو تو مل گئی’ اتنی بری منزل ملی ۔ قرار یہ بھی ہے’ قرار وہ بھی ہوتا ہے ۔ قافلے کے لیے تو قرار کی ضرورت ہے ‘  کہیں تو اترنا ہی ہے اس نے ۔ کہا ایک اتارا یہ ہوتا ہے’ جہاں اتارا جاتا ہے’ یہ انداز بھی ہوتا ہے ۔ کیوں ہوا یہ ‘  کیا کردیا انہوں نے ؟   کہا سیدھی سی بات  وَجَعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا (14:30)   خدا کے ساتھ اور خدا بنا لیے ۔ یہ ہوا ان کے ساتھ ۔ اب خدا بنانا جو تھا’ وہ تو پہلے اس نے بتا دیا’  کہ الہ فی الارض بھی وہی ہو’ الہ فی السمآء بھی وہی ہو ۔ یہاں کے یوں کہیے’ دنیاوی رہنماؤں کو سیاسی رہنماؤں کو تو ایک طرف چھوڑیے ۔ جس مذہب کی یہ کیفیت ہو’  کہ یہاں شخصی قوانین تو اور ہونگے’ اور Public Laws اور ہونگے ۔ یہ دو خدا بنانے والی بات نہیں ہے ؟  یہ مطالبہ آپ کے ہاں کی مذہب کی دنیا کا چلا آ رہا ہے’ چھبیس سال سے ‘Constitutions کے اندر لکھا ہوا ہے’ Personal Laws اور ہونگے’ اور Public Laws اور ہونگے ۔ وَجَعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّوا عَن سَبِيلِهِ (14:30)   اور مقصد دونوں کا یہ ہوتا ہے’ جب الگ الگ یوں کرلیں’ کہ دونوں زندگی کے حصوں کو ‘  زمین کو آسمان سے الگ کرلیں گے آپ ‘  یہاں اور الہ ہوگا’ اس کے لیے اور الہ ہوگا’ تو ہوگا کیا ؟  اور تو سب کچھ ملے گا ‘  خدا کی طرف لے جانے والا راستہ نگاہوں سے اوجھل ہوجائے گا ۔ بس اتنا ہی ہوگا ۔ جواب دیں گے’  کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں صاحب !  دیکھیے تو سہی کتنی خوشحالیاں ‘  کتنی فارغ البالیاں انہیں نصیب ہو رہی ہیں’ یہ بنا ہوا ہے’ اور وہ بنا ہوا ہے’ یہ کچھ کیا گیا ہے’ وہ کچھ کیا گیا ہے ۔ بہت کچھ ہے یہ ۔ کہا   قُلْ تَمَتَّعُوا (14:30) ٹھیک ہے جی !   بڑی خوشحالیاں ہیں ‘  ان سے پوچھو کتنے دنوں کی ہیں ۔ اس کے بعد تم دیکھو گے’  کہ جس راستے پہ بھی چلتے ہو راستہ تمہیں جہنم کی طرف لے جائے گا ۔ جہنم کے بھی تو ابواب ہیں ‘  ایک باب نہیں ہے’  بہت سے دروازے ہوتے ہیں اس کی طرف لے جانے والے ۔ لِّيُضِلُّوا عَن سَبِيلِهِ (14:30)   اس کے ایک راستے کی طرف سے جب وہ راہ گم ہوجاتی ہے’ تو پھر جتنے جی چاہے راستے اختیار کرو’ Prosperity بھی وقتی طور پہ حاصل ہوتی ہے’ یہ سب ملتا ہے’ لیکن  مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ (14:30)   جن راستوں پہ جی چاہے گھومتے پھرو’ ہر راستہ آخرالامر تمہیں جہنم کی طرف لے جائے گا ۔ اور یہ کچھ بتانے کے بعد کہا’  قُل اے رسول  لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا (14:31)   کہہ دو میرے ان بندوں سے  الَّذِينَ آمَنُوا جو ہماری صداقتوں پر یقین لے آئے ہیں ۔ آپ نے دیکھا کہ یہ کس قدر وحشت انگیز سا ‘  کپکپا دینے والا منظر تھا ۔ اس منڈی میں قافلے کو لے جانا’ جہاں جنسِ کاسد کا کوئی خریدار نہیں ‘  جس راستے سے جاؤ’ آگے جہنم ہے ‘  جہنم وہ جس میں نہ زندگی ہے’ نہ موت ہے ‘  موت چاروں طرف سے دکھائی دے رہی ہے’ دھاڑتی ہوئی’ چنگھاڑتی ہوئی ‘  ڈرتا ہے’  کانپتا ہے ۔ قرآن کا انداز  قُل لِّعِبَادِيَ میرے بندوں سے یہ کہہ دو ۔ یہاں یہ میرا جو کہنا ہے’ کتنا پیار ہے اس کے اندر ۔ عزیزانِ من !  وہ ساری دہشت اور وحشت اور کپکپاہٹ ایک لفظ کے اندر قرآن نے دور کردی ۔ کس جگہ قرآن یہ لایا ہے ؟  اے رسول میرے بندوں سے کہہ دو  الَّذِينَ آمَنُوا جو ہماری صداقتوں پہ ایمان لائے ہیں’ کہ تم نہ گھبراؤ ‘  تم نہ ڈرو ‘  خوف نہ کھاؤ ۔ يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً (14:31)   ان سے کہہ دو کوئی بات ڈرنے کی نہیں ۔ نظامِ صلوٰۃ قائم کرو’  اور جو کچھ بھی خدا نے تمہیں دے رکھا ہے’ وہ تمہاری صلاحیتیں ہوں’  ہنر مندیاں ہوں’  کمائی ہو’  جو کچھ بھی ہے یہ سب  رَزَقْنَاهُمْ (14:31) کے اندر آجاتا ہے’ جو کچھ بھی ہم نے سامانِ زیست دیا ہے’ اس کو  كُفْرًا دبا کے چھپا کے نہ رکھو’  اس کو کھلا رکھو ۔ سِرًّا وَعَلَانِيَةً (14:31) اور اس کے استعمال کے لیے کھلا رکھنے کے بعد عندالضرورت ہے’ ٹھیک ہے’ یوں اعلان کرکے دو’ یوں خفیہ طور پہ دو’ لیکن دیتے چلے جاؤ’ کھلا رکھتے چلے جاؤ ۔ ان سے کہو کہ یہ کرو’ لیکن اس میں دیر نہ کرو ‘  اس کے لیے انتظار نہ دیکھو ۔ مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ (14:31)   قبل اس کے کہ وہ دن آجائے’  کہ جس میں تمہیں پھر ضرورت پڑے’  اس چیز کی’  کہ ایسا وہ نقشہ ‘  ایسی وہ چیز ’ جس سے امن نصیب ہو کہاں سے ملے ؟  ’’ اے ہٹیاں تے وکن والا سودا نئیں کہ جدوں جی چاہے خرید لے جا کے ‘‘  لَّا بَيْعٌ فِيهِ (14:31)’’اے سودے وکدے نئیں ہوندے ہیگے‘‘ ۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے’ کہ پھر تم اس کو تلاش کرتے پھرو’ یہی اپنی متاعِ حیات جھولیوں میں ڈال کے’ کہ کہیں سے خرید کے اس کو لے آیئں’ یہ خریدا نہیں جاسکتا ۔ بہت اچھا !  خریدا نہیں جاسکتا ‘  کسی دوست کے ہاں سے مستعار لے لیں گے ۔ کہا  وَلَا خِلَالٌ (14:31) یہ دوستوں سے مستعار بھی نہیں ملا کرتا  ’’فیر او وی نہ کر دیندے نیں پئی ہن ساہڈے کول وی نئیں ہے’ جاؤ کھسماں نوں کھاؤ جا کے ‘‘ ۔ نہ قیمتاً کہیں سے ملے ‘  نہ دوست داری کے اعتبار سے یوں ملے ۔ دو ہی تو طریقے ہوتے ہیں ۔ قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ  (14:31) قبل اس کے کہ تم اس کیفیت ‘  اس مقام میں پہنچ جاؤ کہ جہاں پھر یہ نہ تو قیمتاً تمہیں مل سکے’ اور نہ کہیں سے مستعار مل سکے’ کسی دوست کے ہاں سے مل سکے’ اس سے پہلے یہ کیفیت اپنے ہاں پیدا کرلو ۔ وہی مہلت کا وقفہ جو ہوتا ہے ۔ اس نے کہا ہے کہ یہ اس وقفے کے اندر تو تم اس چیز کا ازالہ کرسکتے ہو’ لیکن جب  خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (101:8) کی صورت ہو تخریبی خرابیوں کا پلڑا جو ہے جب جھک جائے پھر یاد رکھو اس وقت لیے پھرو  یہ دام اپنی جھولی میں ‘  نہ کہیں سے قیمتاً مل سکتی ہے’ نہ کہیں سے پھر دوست کے ہاں سے مل سکتی ہے’ اس سے پہلے پہلے یہ کرلو اپنا انتظام ۔ کہا یہ جو ہم نے تمہیں کہا ہے’ یہ سب کچھ سامانِ زیست کھلا رکھو ‘  کہا دیکھتے ہو’  کہ ہم خالق تھے’ ہم نے تمہیں پیدا کیا’ تو تمہارا سامانِ زیست کس طرح کھلا رکھا ۔ یہ ہے نظام جو تمہیں اپنے ہاں نافذ و جاری کرنا چاہیے ۔ نظامِ انفاق ۔ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (14:32)   بتایا کہ یہ نظام کیسے قائم ہوگا ؟  پہلی چیز تو وہی کہ مادی ضروریات کے لیے اس نے سماوات وارض کو پیدا کیا ‘  تمہاری تخلیق ہوئی ۔ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً (14:32)   یہ نظام تم خود اگر چاہتے کہ انسان پیدا ہوتے’ ان کے ہاں بچے پیدا ہوتے’ اور یہ نظام موجود نہ ہوتا’ کیا زندگی کا وجود قائم رہ سکتا تھا ؟ بچہ پیدا ہو’ دنیا میں انسان آئے’ اور یہاں ہوا  موجود نہ ہو ۔ یہ ہوا اس کے ماں باپ نے پیدا کردی تھی’ جنہوں نے یہ بچہ پیدا کردیا’ یا اس نے کچھ انتظام کر رکھا تھا’ کہ جونہی میں باہر جاؤں آکسیجن موجود ہو’ جس میں میں سانس لے رکھوں ۔ زندگی کا مدار پانی پہ ہو’ او رزندگی والا انسان پیدا ہو یہاں اور پانی موجود نہ ہو ۔ کہا قبل اس کے کہ تمہیں ہم یہاں بھیجتے’ یہ سارے جتنے بھی سامانِ زیست درکار تھے ‘  تمہاری زندگی کے قائم رکھنے کے لیے چاہئیں تھے’ تم دیکھتے ہو کہ کس طرح سے ہم نے انہیں مہیا کیا ’اور بلا معاوضہ’ بلا قیمت یہاں تمہارے لیے مہیا کیا ۔ اور ہر ایک کے لیے مہیا کیا’ نہ ہم نے طبقات کی تقسیم کی’ نہ ان کو گوشوں میں اور شعبوں میں اور Departments میں بانٹا ۔ وہ بچہ آپ کے ہاں اگر شودر کے ہاں پیدا ہو’ یا برہمن کے پیدا ہو’ دونوں کے لیے یکساں ہوا موجود ہے ۔ امیر کے محل میں پیدا ہو’ یا فقیرکی جھونپڑی میں پیدا ہو’  ہم نے تو اس بچے کے لیے یکساں یہ ہوا پیدا کی تھی ۔ پانی یکساں آسمان سے برسایا تھا ۔ کبھی یہ نہیں ہوا’  کہ وہاں فرشتوں کو حکم دیدیا جائے’ کہ ہاں صاحب!  یہاں یہ لے جائیے’ یہ جتنے  Millionares ہیں ان کے گھروں پہ برسا دیجیے ۔ ہمارے ہاں تو یہ نہیں ہوتا ۔ فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ (14:32)   دیکھتے ہیں مٹا دیے طبقات ۔ نوعِ انسانی کو کہا جا رہا ہے ۔ سامانِ زیست لَکُمْ تم سب کے لیے ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ (14:32)   پھر ایک جگہ کا سامانِ زیست وہیں نہیں رہتا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ نظام کیا ‘  پانی پہ تیرنے والی یہ کشتیاں’ ایک جگہ سے دوسری جگہ یہ سب لیے چلی جا رہی ہیں ۔ لَکُمْ تمہارے لیے ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ (14:32)   پانی اوپر سے بھی برسا پھر اس کے بعد جو فالتو پانی تھا’ پہاڑوں کی چوٹیوں کے ریزروائر میں’ ہم نے سردیوں میں جمع کردیا’ کہ آج کل کم ضرورت ہے’ کل کو زیادہ ضرورت ہوگی’ تو پھر گرمیوں میں پگھلانا شروع کردیا’ اور وہ بہے چلا آ رہا ہے’ ہر ایک کے گھر سے آگے سے آوازیں دیتا ہوا چلا جا رہا ہے ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ (14:32)   یوں پانی یہ بھی تمہارے لیے مسخر ۔ میں نے کہا تھا’ کہ جنت کی نہر کو اس نے سلسبیل کہا ہے’ کہ وہ بہتا ہوا چلا جائے راستے میں’ اور سوال کرتا چلا جائے  ’’پانی دی لوہڑ ہیگی اے بھئی ؟  پانی دی لوہڑ ہیگی اے بھئی ؟ ‘‘ ۔ سلسبیل اس کا نام ہے ‘  راستے میں پوچھتا چلا جائے’ آوازیں دیتا چلا جائے  ’’کینوں کینوں لوہڑ ہیگی اے آجاؤ اے ترا جاندا جے پیا‘‘ ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ (14:32) ۔ ایک نظامِ خداوندی ہے ۔ ایک فرعونی نظام ہوتا ہے ‘  فرعون نے کیا کہا تھا ؟  یہی کہا تھا کہ یہ انہار یہاں کی زمینیں سب میری ہیں’ لَکُمْ نہیں ہیں ۔ بس اتنا ہی فرق ہے ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ (14:33)   زندگی کے لیے سورج اور چاند کی روشنی دونوں کی ضرورت ہے ۔ چاند کی روشنی سے پودوں میں خوشوں میں دانہ پڑتا ہے’ سورج کی روشنی اور حرارت سے وہ سارا کچھ پکتا ہے ۔ کہتا ہے کہ یہ ہم نے مسخر کردیا ۔ اور پھر یہ نہیں ہے’ کہ کسی ایک جگہ ان کو کھڑا کردیا ہو’ کہ ان کے فوکس میں جو آئے’ اسے تو یہ کچھ ملے’ اور جو دور رہ جائیں وہ کہیں کہ صاحب !  ہمیں ملا ہی نہیں ہے ۔ کیا بات ہے  دَائِبَيْنِ کی !  تم ایک جگہ ہوتے ہو’ یہ چلتے ہوئے جاتے ہیں تمہارے پاس ۔ آ ہا ہا! کیا بات ہے اس قرآن کی صاحب !  یہ پانی ہمارا جنت کا وہ سلسبیل کی طرح بہتا ہے ۔ یہ جو ہیں شمس و قمر جن کے اوپر اتنا دارومدار زیست کا ہے’ یہ چل کے تمہارے پاس آتے ہیں’ تم تو اپنے مقام پہ رہتے ہو’ تمہیں جانا نہیں پڑتا ان کے پاس ۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ (14:33)   اور دن اور رات کی گردش تم دیکھتے ہو’ کس طرح از خود یہ چیز ہوتی چلی جاتی ہے’ کہ سارا دن تھکے تھکائے ہوئے اس کے بعد اطمینان سے رات کو سو جاؤ تم ۔ یہ تمہاری پیدائش سے سب کچھ ہے ۔ عجیب بات ہے یہ کچھ گنانے کے بعد کہا’ لمبی چوڑی بات کیا کہیں  وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)   جس جس چیز کی ضرورت تھی زندگی کے لیے’ وہ ہم نے پہلے مہیا کی’ اور زندگی بعد میں یہاں پیدا کی ۔ کیا الفاظ ہیں ! وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)  ۔ کہا یہ زندگی جو ہے’ یہ ہم نے پہلے سے یہ سب کچھ کیا ۔ اب اس کے بعد تمہیں ہم کہہ رہے ہیں’  کہ اس قسم کا ایک نظام قائم کرو ۔ عزیزانِ من !  اس نظام کی آیت ذہن میں آگئی’ وہ نظامِ خداوندی کہ جسے اس نے جنت کہہ کے پکارا ہے ۔ کہا کہ وہ کیا ہوتی ہے’ اس کی خصوصیت ؟  پہلے تو یہ کہ جنت ہوتی کیا ہے ؟  إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (41:30)  یہ ثبات تھا ’ کہ اس کو ثبات حاصل ہو ۔ کہا کہ وہ لوگ کہ جنہوں نے کہہ دیا’ کہ اللہ ہمارا رب ہے ‘  وہ ہے نشوونما وینے والا پروردگار ۔ جنہوں نے یہ کہہ دیا ’اعلان کردیا ’نصب العینِ حیات اپنا یہ رکھ لیا  ثُمَّ اسْتَقَامُوا (41:30) اور پھر اس پہ جم کے کھڑے ہوگئے ۔ ثبات نہایت ضروری ہے ۔ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (41:30) جم کے کھڑے ہوگئے’ یہ شرط ہے ۔ عزیزانِ من !  دو لفظ ہیں’ ہوتا کیا ہے ؟  تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ (41:30)   ان کے اوپر فرشتے نازل ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔ اللہ اکبر !  کیا نتیجہ ہوتا ہے نزولِ ملائکہ کا ؟  ہوتا کیا ہے پھر یہ ؟  ہوتا یہ ہے وہ کہتے ہیں’  کہ  أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (41:30)   نہ تمہیں کوئی خوف ہوگا’ نہ حزن ہوگا ۔ وہ آ کے یہ کہتے ہیں’ کوئی خوف و حزن نہیں ہوگا ۔ خوف خارجی خطرات سے مامونیت ‘  حزن دل کی گرفتگی’ اور حزن اور ملال جسے کہتے ہیں’ افسردگی’ دونوں ہی چیزیں نہیں ہونگی ۔ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (41:30)   ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں’ بلکہ لو بشارت اس جنت کی’  کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ عزیزانِ من !  سنیے وہ جنت ۔ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (41:31) او ہم کوئی ہائی کورٹ کی تاریخ نہیں تمہیں دے رہے’ کہ چھ مہینے کے بعد دو سال کے بعد مقدمے کی پیشی ہوتی ہے ۔ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (41:31) اسی زندگی کے اندر ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں’ ایک ایسے نظام کی ۔ اور یہیں تک نہیں ہے وَفِي الْآخِرَةِ (41:31) وہی بات ساتھ اس کے ۔ کہا کیا ہے وہ جنت ؟  فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا پہلی جنت دیکھ لیجیے فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ہے’ اس کی یہاں خوشخبری دی جا رہی ہے’ ملائکہ آ کے خوشخبری دے رہے ہیں ۔ کیا کہا اس جنت کے متعلق’ کہ اس میں کیا ہوگا ؟  دو لفظوں میں بات ہے صاحب !  وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ (41:31)   اس کے اندر جس چیز کو جی چاہے گا’ ملے گی  وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)   جس چیز کو آواز دو گے’ حاضر ہوجائے گی ۔ جنت ۔ اس سے زیادہ اور جنت کی کیا بات ہوگی ۔ یہاں عام طور پہ کہا کرتے ہیں کہ صاحب !  جب یہ کہا کہ جس چیز کو جی چاہو گے وہ ملے گا’ اور جس چیز کو بلاؤ گے’ وہ حاضر ہوجائے گی’ تو اب یہ جو خراب چیزوں کی بھی تو بہت خواہش ہوتی ہے’ اور اس کو بھی تو بہت جی چاہتا ہے’ تو یہ بھی پھر اس میں ہوگا ؟  کیا جواب ہے !  کہا تمہیں پتہ نہیں ہم نے یہ شرط جو مومن کی لگائی ہے’ اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے ۔ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ (81:29) ان کا جی وہی چاہتا ہے’ جو خدا چاہتا ہے ۔ ملائیے ان ٹکڑوں کو ۔ اس دنیاوی زندگی کے اندر جنت’  جس کی بشارت فرشتے آ کے تمہیں دیں گے’ اس میں کیفیت یہ’ کہ جو جی چاہے وہ ہوگا ‘  جو مانگو گے ملے گا’ لیکن مومن کی تو کیفیت یہ ہے’ کہ  ان کا جی وہ چاہے گا’ جو ان کا خدا چاہتا ہے ۔ بہت اچھا جی !  یہ کچھ ملے گا’ جو مانگو گے ملے گا جو چاہو گے ہوگا ۔ یہاں تو کیفیت ہماری یہ ہے کہ


بے نیازی سے تیرے ناز اٹھائے کیا کیا


جو نہ مانگا وہ ملا اور جو مانگا نہ ملا


مبداء فیض سے بس اتنا گلا ہے مجھ کو


جو نہ چاہا وہ ہوا اور جو چاہا نہ ہوا


یہاں وہ یہ کہتا ہے’ کہ تمہارے لیے  مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)   جو چاہو گے ہوگا’ جو مانگو گے ملے گا ۔ عزیزانِ من !  یہ ہے  فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (41:31) کی زندگی ‘  اس جنت کی زندگی ۔ بہت اچھا جی !  یہ کچھ ملے گا’ اور بہت بڑا کرم آپ کا ۔ اگر احسان کے طور پہ ملے گا’ تو یہ سب کچھ ملنے کے باوجود’ جو چیز خیرات کے طور پہ ملے’ احسان کے طور پہ ملے’ اس میں تو پھر عزت اور وقار تو باقی نہیں رہتا ۔ ہوسکتا تھا کہ یہ چیز ذہن میں آئے ۔ کہا کہ  نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (41:32)   کہا ایسی عزت کے ساتھ ملے گا’ جیسا ایک میزبان مہمان کو دیتا ہے ‘  خدا میزبان ہوگا’ تم اس کے مہمان ہوگے ۔ افوہو ۔ آ ہا ہا !  وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)   سب کچھ وہ دے گا ۔ دونوں معنی  سَأَلَ کے ہوتے ہیں جس کی کسی کو ضرورت ہو’ یا جو کچھ وہ کسی سے مانگے ۔ جو مانگو گے وہاں ملے گا ‘  جو ضرورت تھی وہ سب مہیا کردیا ۔ یہ کہا ہے پہلے’ کہ آسمان سے پہلے بارش برسائی’ اس میں سے تمہیں پھل دیے’ کھیتیاں دیں’ فصلیں دیں’ چاند اور سورج کو تمہارے مسخر کیا’ پانی کو مسخر کیا’ شمس و قمر کو مسخر کیا ’لیل و نہار کو مسخر کیا ۔ کہا  وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا (14:34)   ارے !  کیا کیا گنائیں تمہیں ‘  گننے پہ آؤ تو گنی ہی نہ جائیں ہماری نعمتیں جو ہیں ۔ کہا یہ کچھ ہم نے دیا’ بلا مزد و معاوضہ’  لَكُمْ ہر ایک کے لیے ‘  تمہیں یہاں بھیجنے سے پہلے’ یہ سب کچھ انسان کے لیے کیا ۔ اور انسان کی کیفیت  إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (14:34)   اس کم بخت کی کیفیت یہ ’ کہ یہ سب کچھ یہاں بلا مزد و معاوضہ ملا اس کو ‘  اس نے کیا کیا ؟  لَظَلُومٌ كَفَّارٌ کچھ وہ آئے کہ جنہوں نے جہاں کسی کو ہونا چاہیے تھا’  وہاں اس کو نہیں رکھا ۔ روٹی بھوکوں کو نہیں ‘  اس کے ہاں جہاں کے کتوں کو بھی یہ سب کچھ ملتا ہے’ وہاں دیا ۔ لَظَلُومٌ جہاں ہونا چاہیے تھا اس رزق کو’ وہاں نہیں ‘  وہاں دیا جہاں نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ اس نے تو یوں بانٹ دی’ اور جس نے بانٹا نہیں’  كَفَّارٌ اس نے چھپا کے رکھ دیا ۔ ہم نے تو یہ کیا تھا ۔ جب قرآن الْإِنسَان  یا انسان کہتا ہے’ اس کے معنی ہوتی ہے’ انسان وحی کی راہنمائی کے بغیر ‘  حیوانی سطح پہ زندگی بسر کرنے والا ۔ اسے کہا جاتا ہے’  کہ ہم نے یہ کچھ کیا’  یوں دیا   لَكُمْ  ہر ایک کے لیے دیا’ اور جب یہ سارا کچھ انسانوں کے ہاتھ میں آیا’ تو ان کی کیفیت یہ ہوگئی’  کہ  لَظَلُومٌ كَفَّارٌ بانٹا تو اس طرح سے بانٹا’ کہ محتاج محتاج تر ہوتا گیا’ غنی غنی تر ہوتا چلا گیا ۔ یہ ہے ظلم کہ جہاں کسی شے کو ہونا چاہیے’ وہاں نہ ہو’  کسی دوسری جگہ ہو ۔ اور یا  كَفَّارٌ  چھپا کے ہی رکھ لیا ۔ کہا یہ ہے وہ جہنم ۔ ہم نے تو نہیں جہنم تمہارے لیے بنایا تھا ۔ ہم نے تو زندگی دینے سے پہلے سامانِ حیات تمہارے لیے’ سب کے لیے یکساں طور پہ مہیا کردیا تھا’ بلا مزد و معاوضہ ’ لیکن إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (14:34) ۔ وہی جو مشہور آیت ہے’  جس کا جو مفہوم بیان کیا جاتا ہے’ عجیب الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ۔ وہی کہ ہم نے اپنی امانت زمین و آسمان پہ’ او رپہاڑوں پہ’ اور ان پہ رکھی’ اور وہ جو کہتے ہیں کہ جی !  انہوں نے انکار کردیا’ اور انسان نے پھر اس کو آگے بڑھ کے اٹھا لیا ’ اور وہ عام ترجمہ کہ بڑا ہی ظالم اور جاہل تھا’ اس نے اٹھا لیا ۔ بات ہی یہ تھی کہ کائنات کے اندر کسی نے بھی اس امانت میں خیانت نہ کی’ یہ انسان تھا کہ جس نے اس کے اندر خیانت کی ۔ ’’حملِ امانت‘‘ کے معنی ہی ہوتا ہے’ امانت میں خیانت کرنا ۔ ہم نے تو یہ سارا کچھ پوری نوعِ انسانی کے لیے بکھیر دیا تھا’ لیکن انسان کے سامنے آیا  إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (14:34) ۔ کہا کہ وہ نظام جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے’  کہ جس میں انسانیت کے لیے’ یہ تمام سامانِ زیست اس طرح سے عام ہوگا’  کہ جہاں جتنی جس کو ضرورت ہو’ وہاں اس کو مل جائے  رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا (2:35) ہر ایک پیٹ بھر کر کھائے’ جہاں بھوک لگے وہاں کھائے ۔ قرآن نے جنت کی یہی  Definitionکہی ہے ۔ آدم کی جنت ۔ کہا کہ انسانوں نے یہ کچھ کیا’ لیکن اس کے بعد پھر ہماری طرف سے ایسے انسان آتے رہے’ کہ جنہوں نے پھر اس باطل کے نظام کو مٹا کے’ پھر اس کی جگہ صحیح نظام جو تھا’ اس کو قائم کیا ۔ اور قرآنِ کریم اس کے لیے ابتدا حضرتِ ابراہیم علیہ السلام سے کیا کرتا ۔ اگرچہ آپ سے پہلے کے انبیاء نے بھی اپنے اپنے مقام پہ کیا’ لیکن عالمگیر نظام کی جو طرہ ڈالی ہے’ وہ حضرتِ ابراہیمؑ کے ہاتھوں سے پڑی’ جنہوں نے جسے کہا گیا ہے تعمیرِ کعبہ ‘  پوری نوعِ انسانیت کے لیے مرکزِ حیات ۔ تو عالمگیر انسانیت کے لیے جو نظام ہے’ اس کی ابتدا حضرتِ ابراہیمؑ نے کی تھی’ اس لیے ہمیشہ وہاں سے ذکر کرتا ہے ۔ کہا ہم نے یہ کیا’ انسان نے یہ کیا’ لیکن انہی انسانوں میں سے وہ انسان بھی تو آئے  وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ (14:35)   بات وہاں سے شروع کی ۔ دوسرے مقامات کے اوپر ہے’  کہ ہم نے کہا کہ اپنے بیٹے کو یہاں بساؤ’ اور بناؤ ایک گھر ۔ کس کا گھر ؟  گھر تو میرا گھر ہوتا ہے’ تیرا گھر ہوتا ہے’  زید کا گھر ہوتا ہے ۔ پہلی بات جب آپ کسی اجنبی سے پوچھتے ہیں’ یا ملنے والے سے جس کا پتہ نہیں ہوتا’ کہتے یہ ہیں کہ  ’’ تیرا گھر کتھے ہیگا؟  گھر تے ہمیشہ تیرا گھر ہوندا ہیگا ‘  میرا گھر ہوندا ہیگا ‘‘ ۔ ابراہیمؑ سے کہا کہ ابراہیمؑ ایک گھر بناؤ ۔ کہا جی کس کے لیے بناؤں ‘  اپنے لیے بناؤں ‘  بیٹا ساتھ ہے اس کے لیے بناؤں ‘  کس کے لیے بناؤں ؟  کہا کہ نہیں !  یہ گھر جو ہیں’ یہ تو لوگوں کے بنے ہوئے ہیں بَيْتِيَ (22:26 ) میرے لیے بھی ایک گھر بنا دو  ’’اک کوٹھا مینوں وی چھت دے ابراہیمؑ ۔ ایناں گھراں دیاں سارے ونڈیاں پا لیاں ہیگیاں نیں ‘‘ اس لامکاں کے لیے بھی  بَيْتِيَ  میرا گھر بنا دو ۔ کہا کہ مالک الملک!  یہ ساری کائنات تیری ہے ‘  کیا کہا تم نے کہ یہ میرے لیے بھی ایک گھر بنا دو ۔ کہا اے ابراہیمؑ !   ’’بیت للناس‘‘ وہ گھر بنا دو کہ جسے کوئی انسان میرا گھر نہ کہے’ پوری انسانیت کے لیے وہ گھر ہو ۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا (3:96) بَيْتِيَ کہا ہے اس کو ‘  میرا گھر اور اس کے بعد کہا ’یہ کہ یہ گھر پہلا گھر ۔ سارے گھر انہوں نے اپنے اپنے ناموں سے الاٹ کرالیے تھے’ قبضہ کرکے بیٹھ گئے تھے’ انسانوں نے بانٹ لیا تھا ۔ پہلا گھر کہ جو   وُضِعَ لِلنَّاسِ کہ جسے عالمگیر انسانیت کے لیے ہم نے بنایا ہے’ اس لیے ہم نے اس کو اپنا گھر کہا تھا ’ کہ کوئی ملکیت جتا نہ بیٹھے ۔ ابراہیمؑ نے گھر بنانے کے بعد پہلی دعا مانگی  رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا الْبَلَدَ (14:35)   اے میرے نشوونما دینے والے !  اس شہر کو جس میں یہ میں نے گھر بنایا ہے’ دعا میری یہ ہے ۔ عزیزانِ من !  سنیے دعا کیا ہے ۔ دنیا میں دنیاوی نظاموں کا ستایا ہوا انسان ’ہر جگہ امن تلاش کرتا پھر رہا ہے’ کہیں اس کو امن نہیں مل رہا ۔ آپ کو شاید یاد نہ ہو’ ایک دو سال پہلے کا ذکر ہے’ غالباً وہ یوگنڈا تھا یا افریقہ کی اسی قسم کی ریاست تھی ۔ وہاں سے ایک ستائی ہوئی لڑکی’ غالباً وہ عیسائی لڑکی تھی یا ہندو لڑکی تھی ۔ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (2:167) مصیبت یہ ہوتی ہے’  کہ ان مستبد نظاموں سے باہر نکلنے کا بھی تو کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔ قرآن یہ کہتا ہے’  کہ جہنم سے جب وہ باہر نکلنے کا ارادہ کریں’  تو اس کے دربان دھکا دے کے ان کو اندر داخل کردیں گے ۔ وہ اس قدر بے چاری ستائی ہوئی تھی’ کہ اس کو وہاں تو امن مل ہی نہیں سکتا تھا’ باہر جانے نہیں دیتے تھے ۔ کسی ملک کا کوئی جہاز آیا[ اور وہ چوری چھپے اس جہاز کے اندر چھپ گئی ۔ اور جہاز جب وہاں سے چل پڑا سمندر کے اندر چلا گیا’ تو اس وقت اس نے وہاں پھر اپنا سر نکالا ۔ تو اب وہ جہاز نہ واپس آسکتا تھا’ نہ اسے دھکیل سکتا تھا سمندر میں ۔ عزیزانِ من !  اس کی داستان پھر اخباروں میں چھپی ۔ وہ سامان کا جہاز تھا’ دنیا کے مختلف بندرگاہوں پہ اس نے جانا تھا’ قریباً آدھی دنیا کی بندرگاہوں پہ ۔ وہ جس بندرگاہ کے اوپر پہنچا یا’ انہوں نے اس لڑکی سے کہا’ کہ یہاں اترو یا اس لڑکی نے اترنا چاہا’ جہاں جس خشکی کے اوپر پہنچا ’وہاں والے نے اسے پوچھا کہ بتاؤ تمہارے پاس تمہارا پاسپورٹ اور ویزا کہاں ہے ۔ تو اس کے پاس نہیں تھا’ ہر بندرگاہ سے اس کو انکار ہوا’ اور اس کو دھکیل دیا اس جہاز کے اندر’  تآنکہ وہ جہاز چھ مہینے میں ساری دنیا کا سفر کرنے کے بعد اس پناہ ڈھونڈنے والی بچی کو پھر وہیں لے آیا’ جہاں سے وہ بھاگ کے گئی ہوئی تھی ۔ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (2:167) جہنم سے نکل کون سکتا ہے ۔ عزیزانِ من !  امن کا کوئی گوشہ دنیا میں نہیں مل رہا ۔ کیا تھی دعائے ابراہیمیؑ ؟  رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا (14:35) میرے پروردگار !   اس گھر کو تو کم از کم ایسا رکھ’  کہ دنیا میں ہر ستم رسیدہ کے لیے یہ امن کا مقام ہو ۔ خدا نے یہ کہا تھا کہ ہاں !  ٹھیک ہے یہاں ایسا نظام قائم ہوگا ۔ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا (3:97) جو اس کے زیرِ سایہ آجائے گا اسے امن نصیب ہوجائے گا ۔ وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ (14:35) اور دعا میری یہ ہے کہ پھر مجھے اور میرے ان بچوں کو بھی جن کے ہاتھوں سے یہ کعبہ بن رہا ہے اسے ایسا کر ۔ یہ الْأَصْنَامَ صنم کی جمع ہے ویسے عام ترجمہ اس کا بت پرستی کیا جاتا ہے’  کہ ہمیں بت پرستی سے باز رکھ ۔ کیا یہ ہوسکتا تھا کبھی یہ تاثر’  کہ بت پرستی شروع ہوجائے ۔ صنم ہر اس جذبے اور شے کو کہتے ہیں’ جو کسی کو خدا سے دور لے جائے ۔ کہا یہ چیز ہم چاہتے ہیں ۔ یہ نظام اس صورت میں قائم ہوسکے گا’ن کہ میں اور میرے بعد بھی جو آنے والے ہیں کسی ایسی شے کی محکومیت اختیار نہ کرلیں’ کسی کے تابع دب کے نہ رہ جائیں’ کہ جو تیری طرف جانے والے راستے سے دور کردے۔ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ (14:36)   ہم اس لیے کہہ رہے ہیں یہ دعا پہلی اس لیے مانگ رہے ہیں’ کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کو تیرے راستے سے گمراہ ہی اس بات نے کیا ہے’ کہ ان کے دل میں یہ اس قسم کے جذبات پیدا ہوتے رہیں’ جو تجھ سے دور لے جاتے رہیں  أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ (14:36) یا اس قسم کے صاحبِ اقتدار لوگ آتے رہے’  کہ جو انسانوں کو تیرے راستے سے دور لے گئے ۔ عزیزانِ من !  اب یہاں پہلی اینٹ رکھی گئی’ اسلام کے نظریۂ زندگی کی’ اور وہ ہے دو قومی نظریہ ۔ جس کے الفاظ ہمارے ہاں کے کلمہ کی طرح دہرائے اتنے جاتے ہیں  ’’ساہنوں ایناں ای اوندا ہیگا اے پئی پانڈا صاف ہوگیا تے پاک وی کرلو ‘‘ ۔ نظریۂ پاکستان تو پھر بھی ایک ایسی ٹرم ہے ‘  دو قومی کے تو معنی ہی یہ ہیں’ دو قومیں ۔ عزیزانِ من !  ان میں سے جو جتنے دہرانے والے ہیں’ ان سے پوچھیں دو قومی نظریہ کہ صاحب !  یہاں وہ دو قومیں ہیں کونسی ؟  سیدھی سی بات ہے’ Two Nations جو آپ کہتے ہیں’ دو قومی جو کہتے ہیں’ یہ دو قومیں ہیں کونسی ؟  یہ دو قومیں ہیں جو پہلے دن سے خدا نے انسانوں کے متعلق قائم کی تھیں ۔ اس نے کہا یہ تھا کہ دنیا میں قومیت کا مدار نہ تو کسی وطن کی چار دیواری کے اندر بسنا ہے’ نہ کسی کا ہم نسل ہونا ہے’ نہ ہم زبان ہونا ہے’ نہ ہم رنگ ہونا ہے’ یہ سوال نہیں ہے ۔ جو اس نظریۂ حیات کو تسلیم کریں گے’ دنیا میں کہیں بسنے والے وہ ہوں’ وہ ایک قوم’ قومِ مومن ‘  جو اس سے انکار کریں گے’  وہ دوسری قوم ۔ دو ہی قومیں ہیں دنیا کے اندر خدا نے کہا تھا انسان دو ہی قوموں میں بٹ سکتا ہے’ یا اس نظریۂ حیات کو جو یہاں بیان ہو رہا ہے’ ماننے والے یا اس کا انکار کرنے والے ۔ تو یہ تھیں دو قومیں جن میں انسان بٹتا تھا ۔ تحریکِ پاکستان کی بنیاد اس پہ تھی کہ


بنا ہمارے حصارِ ملت کی اتحادِ وطن نہیں ہے


یہ غلط ہے کہ ایک ملک کے اندر بسنے والے سارے باشندے مسلم اور غیر مسلم ’ ایک قوم بن سکتے ہیں ۔ مسلمان ایمان کے اشتراک کی بنیاد پر خدا کے حکم کے مطابق’ قرآن کی رو سے الگ ایک قوم ہے’ باقی دنیا کی ساری قوموں سے ۔ باقی دنیا کی ساری قومیں ایک قوم ‘  دوسری قوم مسلمان ۔ دو ہی تو قومیں ہیں ۔ یہ ہم نے اپنا مطالبہ وہاں منظور کرایا تھا’ اور اس بنیاد پہ جب انہوں نے مان لیا’  کہ مسلمان الگ قوم ‘  اس کا منطقی نتیجہ یہ تھا’  کہ قوم کے لیے الگ مملکت ۔ یہ بنیاد تھی ۔ دو قومیں سمجھ لیا کیا معنی ہوئے ۔ ایک ملک کے اندر بسنے والے ‘  پوری دنیا کے اندر بسنے والے ‘  ایمان کے اشتراک کی بنا پہ مسلم ایک قوم ‘  جو بھی اس قوم میں داخل نہیں’ وہ دوسری قوم ۔ اپنے طور پہ وہ ہزار قوموں میں کیوں نہ بٹ جائیں’ ہمارے نقطۂ نگاہ سے دوسری قوم’ جسے ہم غیر مسلم کہتے ہیں ۔ یہاں ہم آگئے تو ایک مملکت ہمارے پاس ہے’ اس میں مسلمان بھی بستے ہیں’ غیر مسلم بھی بستے ہیں’ یہ سارے جتنے بھی ہیں’ یہ ایک قوم ہیں ۔ یہ جو تصور تھا’ آپ دیکھیے کہ کعبے کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی’ اس معمارِ حرم نے جو پہلی بات وہاں کہی تھی’ وہ کہا یہ تھا کہ یہ جو چیز ہے کہ یہ میری نسل ہے’ یہ میرا وطن ہے’ یہ میرے ہم رنگ لوگ ہیں’ بالکل غلط ہے ۔ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي (14:36) جو میرے پیچھے چلے گا وہ میرا ہے  وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (14:36)   اور جو اس سے سرکشی اختیار کرے گا تو میرا تو کوئی واسطہ نہیں ہے تو جان وہ جانے ۔ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي (14:36)  عزیزانِ من !  یہ بنیاد ہے دو قومی نظریہ کی ۔ جو اتباع کرتا ہے خدا کے رسول کی ‘  خدا کے پیغام کی ‘  اس کے احکام کی ‘  اس کے قوانین کی ‘  اس کے نظام کی  فَإِنَّهُ مِنِّي ۔ اب پتہ چلا ابراہیمؑ سے ذکر کیوں شروع ہوتا ہے ۔ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (14:36)   بات ساری چلی آ رہی تھی کہ یہ رزق اس طرح سے ہم نے بکھیر دیا ۔ ایک مرکز ایسا بناؤ جو ہمارے نظام کا مرکز ہو ۔ بات یہ تھی کہ کیا اس کا بھی ذکر کہیں یہ آ رہا ہے ‘  ابراہیمؑ نے یہ جو دعائیں مانگی ہیں ‘  دعا ابھی ختم نہیں ہوئی دعائے ابراہیمیؑ کا یہ ٹکڑا ضروری ہے جو میں ساتھ ملا دوں ۔ رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37)   میرے نشوونما دینے والے !  تیرے حکم کے مطابق میں نے اس وادیِ غیر ذی زرع میں اس مقام پہ جہاں کچھ نہیں اگتا ’ وہاں لا کے بسا دیا ہے میں نے ۔ کیوں یہاں بسا دیا ؟ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37)   تیرے گھر کی رکھوالی کے لیے ۔ ’’گھر وی اپنا نئیں ایناں دا تے اگدا وی ایتھے ککھ نئیں ہیگا‘‘ ۔ یہاں میں نے بسا دیا ہے ان کو ۔ کاہے کے لیے بسا دیا ہے ابراہیمؑ نے ‘  ایسی جگہ کون بساتا ہے’ جہاں کوئی او رگھر بھی نہ ہو’ جہاں کچھ اگتا بھی نہ ہو پانی بھی نہ ہو ۔ میں نے یہاں بسا دیا ہے کاہے کے لیے ؟  بڑا عظیم مقصد تھا  لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (14:37)   آپ سمجھتے ہیں اس صلوٰۃ کے معنی پھر کیا ہیں ۔ صلوٰۃ کو قائم کرنے کے لیے ۔ او میرے بابا !  اگر نماز پڑھنا ہی تھا تو یہ صلوٰۃ تو شام کی ان سر سبز وادیوں میں بھی تو پڑھی جا رہی تھی’ یعنی اس کے لیے یہ سارا تردد کرنا اور وہاں لا کے ایک گھر خدا کا بنا دینا’ اور وہاں ان کو بسا دینا کاہے کے لیے ؟ لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (14:37)۔ دیکھتے ہیں یہ ہے زندگی کا نصب العین ‘  اقامتِ صلوٰۃ ‘  اس کے لیے یہ کہا جا رہا ہے   لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ  اس لیے یہ دیکھیے یہ سب کچھ ہم نے کردیا  فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ (14:37)   تو ایک بات تو یہ ہے کہ بڑے ویرانے کے اندر یہ بنایا ہے’ ایسا انتظام کردے ۔ یہ نہیں کہا کہ لوگ کھنچ کے ان کی طرف آئیں ‘  لوگوں کے دل ان کی طرف کھنچ کے آئیں ۔ عزیزانِ من!  ویرانوں کی آبادیاں لوگوں کے کھنچ کے آنے سے نہیں ہوتیں’ آبادیاں تو دلوں کے کھنچ کے آنے سے ہوتی ہیں ۔ دیکھ رہے ہیں دعائے ابراہیمیؑ  کیا ہے’  تَهْوِي إِلَيْهِمْ (14:37)۔ اور ا سکے بعد پروردگار !  دل میں جو بات اٹھتی ہے’ تُو تو جاننے والا ہے اور زبان پہ آ کے رہتی ہے  وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ (14:37)  ’’روٹی دا وی انتظام کردیں ایناں دا‘‘ ۔ دیکھتے ہیں ارض کے اندر درخت کی جڑوں کا مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ۔ تعمیرِ کعبہ کے بعد پہلی دعا خدا کا ایک پیغمبر مانگ رہا ہے’ اپنے دوسرے بیٹے کے لیے جو خدا کا پیغمبر ہونے والا ہے’ وہاں بسا رہا ہے’ پہلی دعا ہے ۔ یہ تو ٹھیک ہے  لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (14:37) مقصد یہ ہے’ تاکہ صلوٰۃ کا قیام کرسکیں ۔ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ (14:37)   رزق کا سامان کردے ۔ اتنا ضروری ہے یہ سامانِ رزق ۔ کاہے کے لیے ؟  پھر آیا ہے  لَعَلَّهُمْ تاکہ ۔ یہ کیوں سامانِ رزق پیدا کردے  ’’روٹی کھان نوں دیدے‘‘  تاکہ   لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37)   تاکہ ان کی محنتیں بھرپور نتائج پیدا کریں ۔ روٹی نہ ملے تو کسی کی محنت بھرپور نتیجہ ہی نہیں پیدا کرتی ۔  لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37)   عزیزانِ من !  پیغمبر پیغمبروں کے لیے دعائیں مانگ رہا ہے ۔ روٹی کی تو اتنی بڑی اہمیت ہے ۔ یہاں بھوک کا عذاب جو ہے اسے خدا کے مقرب بندوں کی نشانیاں بتایا جا رہا ہے!   پہلی دعائے ابراہیمیؑ ہے یہ’  کہ ان کی روٹی کا انتظام کردے    لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37)   تاکہ یہ جتنی بھی یہاں محنت کریں وہ بھرپور نتائج اپنے پیدا کرے ‘  یہ نہ ہوا تو نتیجہ نہیں پیدا ہوگا ۔ عزیزانِ من!  یہ ہے چیز کہ  أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) میرے مولا !  اس مادی زندگی کے اندر ان کو ثبات نصیب کر تاکہ اس درخت کی شاخیں آسمان میں جھولا جھولیں ۔ عزیزانِ من !  یہ ہے اسلامأَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) ۔ عزیزانِ من !  ہم سورۃ ابراھیمؑ کی آیت 37   تک آگئے 38   آیت سے ہم آئندہ لیں گے ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

|…|…|


Popular Posts