حدیث کی حجیت اور اس کا اطلاق


ہمارے ہاں عام طور پر دینی مباحثوں میں قرآن و حدیث کا حوالہ اپنے نکتہ نظر کو تقویت دینے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور اس سلسلے میں اصول یہ ہے کہ آیت یا حدیث کی تاویل ایسے کی جائے کہ اسے مرضی سے استعمال کیا جاسکے۔

مثلا
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ سے مروی حدیثِ مبارکہ ملاحظہ ہو :
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ، وَيَقُولُ : مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.

ابن ماجه،السنن،کتاب الفتن،باب حرمةدم المؤمن وماله رقم : 39322
طبراني، مسند الشاميين، : 396، رقم : 15683.
منذري، الترغيب والترهيب، 3 : 201، رقم : 3679

''حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا : (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔''

لیکن جب اطلاق کی باری آتی ہے تو عمل اس کے بالکل الٹ ہوتا ہے۔ خانہ کعبہ تو ایک طرف کسی محلے کی اجاڑ مسجد کو کچھ ہو جائے تو انسانوں کا خون بہانے پر لوگ تیار ہو جاتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی معاملہ قبلہ اول اور مسجد اقصٰی کا ہے۔ اس کے تقدس کے نام پر، ہزاروں بلکہ لاکھوں معصوم افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کا خون بہایا جا چکا ہے۔  اگر کوئی یہ مشورہ دے بیٹھے کہ فی الحال مسجد اقصٰی کو چھوڑیں اور عالم اسلام کی کمزوری دور کرنے کی کوشش کریں۔ کیوں فضول میں جانیں گنوا رہے ہیں تو اس کا جینا محال ہو جائے گا۔

فعل ، فاعل اور مفعول۔وحدت الوجود کی عمدہ مثال


ایک بار (مولانا رشید احمد گنگوہی نے) ارشاد فرمایا کہ ضامن علی جلال آبادی کی سہارنپور میں بہت سی رنڈیاں مرید تھیں۔ ایک بار سہارنپور میں یہ کسی رنڈی کے مکان پر ٹہرے ہوئے تھے، سب مریدنیاں اپنے میاں صاحب کی زیارت کے لئے حاضر ہوئیں مگر ایک رنڈی نہیں آئی۔ میاں صاحب بولے کہ فلانی کیوں نہیں آئی۔ رنڈیوں نے جواب دیا، میاں صاحب ہم نے اس سے بہیترا کہا چل میاں صاحب کی زیارت کو تو اس نے کہا میں بہت گناہ گار ہوں اور بہت روسیاہ ہوں، میاں صاحب کو کیا منہ دکھاؤں گی، میں زیارت کے قابل نہیں۔ میاں صاحب نے کہا، نہیں جی! تم اسے ہمارے پاس ضرور لانا۔ چنانچہ رنڈیاں اسے لیکر آئیں۔ جب وہ سامنے آئی تو میاں نے پوچھا بی تم کیوں نہیں آئی تھیں؟ اس نے کہا، حضرت جی روسیائی کی وجہ سے زیارت کو آتے ہوئے شرماتی ہوں۔ میاں صاحب بولے بی تم کیوں شرماتی ہو ’’کرنے والا کون اور کرانے والا کون وہی تو ہے‘‘ رنڈی یہ سن کر آگ بگولا ہوگئی اور خفا ہو کر بولی لاحول ولا قوۃ ، اگرچہ روسیا و گناہگار ہوں مگر ایسے پیر کے منہ پر پیشاب بھی نہیں کرتی‘‘ اس کے بعد میاں صاحب تو شرمندہ ہوکر رہ گئے اور وہ اٹھ کر چل دی۔ ( تذکرۃ الرشید ، ج ۲، ص ۲۴۲

Popular Posts