ہمارے مذہبی طبقے کو گالیوں کا اتنا شوق اور مہارت ہے کہ لگتا ہے مدرسوں کے نصاب میں اس کی بطور خاص مشق بہم پہنچائی جاتی ہے۔ قران و سنت سے دلیل دیتے ہوئے چونکہ محبت اور مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے لہذٰا اس کمی کو گالیوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ مدرسوں میں مخالف فرقوں کے رد کی طرف زیادہ دھیان دیا جاتا ھے اور قرآن سنت پر نسبتا کم توجہ دی جاتی ہے۔
دلیل کی قلت اور کلام کی کثرت
کسی پڑھے کم اور لکھے زیادہ کی مثال دیکھنی ہو تو اوریا مقبول جان جیسے لوگوں کو دیکھ لیں۔
Sent from my iPhone
Subscribe to:
Comments (Atom)
Popular Posts
-
2 1 6 Essential Elements Of Belief – ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ Y ...
-
Surah Ayah Subject 2 1 6 Essential Elements Of Belief – True Analysis And Correct Translation...
-
جب ہم مرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے، قرآن اسے آیت 2:24 میں ظاہر کرتا ہے جس کا غلط ترجمہ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے "اس جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ...
-
20 Favorite Artists and 20 Essential Tips in the latest Pastel Journal ! ...
-
ہمارے ہاں عام طور پر دینی مباحثوں میں قرآن و حدیث کا حوالہ اپنے نکتہ نظر کو تقویت دینے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور اس سلسلے میں اصول یہ ہے کہ ...